Editor's Choice

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Featured Post
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

"Let us build Pakistan" has moved.
30 November 2009

All archives and posts have been transferred to the new location, which is: http://criticalppp.com

We encourage you to visit our new site. Please don't leave your comments here because this site is obsolete. You may also like to update your RSS feeds or Google Friend Connect (Follow the Blog) to the new location. Thank you.


--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

Wednesday, 25 November 2009

A critical analysis of the "Balochistan Package" - By Qais Anwar



آغاز حقوق بلوچستان ۔۔۔۔ طبل جنگ ؛ سمجھوتہ یا ایک اور پسپاءی

آصف ذرداری کوء ی نہ کوءی ایسا جرم کرتا رہتا ہے کہ وہ ایسٹبلشمنٹ کے
تیروں کی زد میں آ جاتا ہے ۔پچھلے ادوار میں یہ جرم بھٹو خاندان سے
وفاداری تھا۔ اس بار یہ جرم ’عملی’ بے نظیر کی بجاءے ’آءیڈلسٹ’بے نظیر کے
جھنڈے کو لے کر آگے بڑھنا تھا۔ اگر وہ ق لیگ کے ساتھ اتحاد کر لیتا؛
بلوچستان کے عوام سے معافی نہ مانگتا؛ بے نظیر کی شہادت کی تحقیقات اقوام
متحدہ سے نہ کرواتا؛ بھارت سے اچھے تعلقات کی بات نہ کرتا اور آءینی
پیکیج پر اصرار نہ کرتا تو اسے شاید اتنی جلدی ”غیر دانش مند” اور ”ملک
دشمن ” قرار نہ دیا جاتا۔اس کی رخصتی کی تمام تاریخیں اقوام متحدہ کی
رپورٹ ؛ بلوچستان پیکج اور آءینی پیکیج کو روکنے کے لیے تھیں۔ تاریخیں
گزر گءیں اور بلوچ سردار کے بیٹے نے بلوچستان پیکیج دے دیا۔ لیکن پیکیج
کے اندر کی کءی شقیں چلا چلا کر گواہی دے رہی ہیں کہ یہ وہ نہیں ہے جس کا
زرداری نے وعدہ کیا تھا۔ یہ کیا کہ ان کو رہا کیا جاءے گا جو دہشت گرد
نہیں ہوں گے۔ گویا بلوچ باغی اور طا لبان میں کوءی فرق ہی نہیں ۔ بلوچ نے
ہتھیار اس وقت اٹھایا جب اسے کءی دہاءیوں تک سیاسی عمل میں کوءی اہمیت
ہی نہیں دی گءی۔طالبان وہ ہیں جو سیاسی عمل میں یقین ہی نہیں رکھتے ۔ تو
پھر کیا ہوا؟ وہ کون تھے جنہوں نے پیکیج کی شکل ہی تبدیل کردی ؟کیا
زرداری میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ایک سچ مچ کا پیکیج دے دیتا ؟ آءیے
اس کا جواب تلاش کرتے ہیں ۔

نواز شریف صاحب نے گیلانی سے ملاقات کے بعد بڑے واضح انداز میں فرما دیا
کہ پیکیج پر آرمی کے ساتھ بھی بات کر لیجیے گا کہ کہیں وہ بعد میں
اعتراض نہ کر دیں ۔

کل حامد میر کے پروگرام میں حاصل بزنجو نے کہا کہ آپ ایسی باتیں نہ کریں
جو آپ کر نہیں سکتے۔ آپ اکبر بگٹی کے قاتلوں کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے ۔
حامد میر کے پروگرام میں ہی احمدان بگٹی نے کہا کہ ہم زرداری سے ملنے گءے
اور بتایا کہ ہمارے علاقے میں سو سے زیادہ لوگ سردار (اکبر بگتی کا پوتا
جس کو ایسٹبلشمنٹ نے زبردستی سردار بنایا تھا)نے نجی جیل میں ڈال رکھے
ہیں ۔ زرداری نے چھوڑنے کا وعدہ کیا جو لوگ شکایت کرنے گءے تھے واپس گءے
تو سردار نے ’سرکاری آدمیوں’ کے ذریعے انہیں بھی اٹھوا لیا اور نجی جیل
میں ڈال دیا ۔

جاوید چوہدری اپنے پروگرا م میں بڑے تیقن کے ساتھ کہہ رہا تھا کہ کیری
لوگر بل اور این آر او کے بعد بلو چستان پیکیج بھی ایک پھندا بننے والا
ہے۔
پاکستان بننے کے بعد پہلے مہاجر اور پھر پنجابی اور مہاجر پر مشتمل
حکمرانوں نے پشتون کو جلد ہی ا پنا جونیر ساتھی سمجھ لیا تھا۔ اس کی بڑی
وجہ برن ہال سے پڑھ کر سول سروسز اکیڈیمی اور کاکول میں جانے والے پشتون
اور خیبر سے کیماڑی تک چلنے والے ٹرک تھے۔ لیکن بنگالی اور بلوچ کی اہمیت
غلاموں سے زیادہ نہیں تھی۔ اگرچہ ایسٹبلشمنٹ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی
کہ بنگالی آزادی مانگ سکتا ہے لیکن مسلسل تحقیر اور ہندوستان کی مدد
بنگالی کو اس نکتے پر لے ہی آءی کہ وہ آزاد ہو گیا ۔ لیکن بلوچ
ایسٹبلشمنٹ کے نزدیک ایک رینگنے والا کیڑا ہے جو کسی بھی سہولت کا حق دار
نہیں ہے۔ اپنی دنیا میں مست سیکولر روایت کے حامل بلوچوں کا فرقہ واریت
اور جہاد میں بھی کوءی کردار نہیں بن سکا۔ اور پھر مسلسل توہین بلوچ کو
اس سطح پر لے آیء کہ اس نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ اس کے ساتھ ہے جو
اس کو آزادی دلاءے گا۔ ہماری ایسٹبلشمنٹ کے لیے یہ سوچنا بھی مشکل ہوتا
ہے کہ یہ غلام ابن غلام کبھی آزادی بھی مانگ سکتے ہیں اور پھر بلوچ بغاوت
کی جڑ اس کی مایوسی میں تلاش کرنے کی بجاءے اس کے پیچھے بھی ہندوستان کا
ہاتھ تلاش کر لیا گیا ۔ اور پھر اس کا حل بھی چھاءونیوں کی تعمیر؛ دوسرے
صوبوں کے لوگوں کو بسا کر اکثریت کو اقلیت میں بدلنے اور ایسے ہی اور بہت
سے طریقوں میں ڈھونڈا گیا

زرداری کا یہ کہنا کہ وہ بلوچوں سے معافی مانگے گا اسٹبلشمنٹ کے لیے صدر
کے عہدے کی اس سے زیادہ کیا توہین ہو سکتی تھی۔ اور پھر ٹی وی پر زرداری
کے جانے کی تاریخیں شروع ہو گءیں ۔ اور پھر اسی مہم کا نتیجہ تھا کہ رحمن
ملک نے بھی بلوچستان میں ہندوستان کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ اور اب
پیکیج میں بھی ہر اچھی چیز مشروط ہے۔ یہاں ایسٹبلشمنٹ کا پرانا کھیل شروع
ہو جاتا ہے۔ ماضی میں جب کبھی پی پی نے صدارت یا اہم عہدے اے این پی کو
دینا چاہے تو ان کو سیکیورٹی کلیرنس نہیں ملی لیکن ان لوگوں نے اپنا غصہ
اسٹبلشمنٹ پر نکالنے کی بجاءے پیلپز پارٹی پر نکالا ۔ لیکن جب ایسٹبلشمنٹ
کو ضرورت پڑی تو اس نے بابا اجمل خٹک کے ساتھ بھی صدارت کا وعدہ کر لیا ۔
سندھ میں ان کو جن کو ہندوستان کا ایجنٹ کہا جاتا تھا اہم ترین عہدوں پر
لے آءے ۔ ایسٹبلشمنٹ اتنی بے رحم ہے کہ پیلپز پارٹی کی دشمنی میں کچھ بھی
کر سکتی ہے۔ ججوں کی بحالی تو ابھی حال ہی کی بات ہے۔ ایسٹبلشمنٹ ججوں کی
بحالی نہیں چاہتی تھی ۔ زرداری نے سمجھوتہ کر لیا ۔ لیکن جب ایسا وقت آیا
کہ ججوں کی بحالی پیلپز پارٹی کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی
تھی تو ایسٹبلشمنٹ ہی ججوں کی بحالی کی ہیرو بن گءی ۔

زرداری کا سمجھوتہ اس بار زیادہ محتاط ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے پاس اختیار
ہے کہ وہ پیکیج کو مزید بہتر کر دے ۔ لیکن یہاں تو مقابل وہ میڈیا اور
اپوزیشن ہے جو نان ایشو کو ایشو بنانے کا طویل تجربہ رکھتے ہیں ۔ یہ وہی
ہیں جنہوں نے دیکھنے والے کو یقین دلا دیا ہے کہ بلو چستان کا مسءلہ اصل
مسءلے یعنی این آر او سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے۔ کیا یہ تو نہیں ہو گا کہ
گمشدہ لوگ اس پیکیج کے بعد بھی برامد نہ ہو سکیں ۔ مقدمات اس لیے واپس نہ
ہوں کہ دفعات دہشت گردی کی ہیں اور پھر زرداری اور رحمان ملک جھوٹے ثابت
ہوں اور اور ہمارا میڈیا اصل ذمہ داروں کی نشاندہی کی بجاءے قوم پرستوں
کو ٹی وی پر بلا کر ذرداری کو زمہ دار ثابت کر رہا ہو ۔ کیا ایسی صورت
میں زرداری طبل جنگ بجا سکے گا؟ کیا پیپلز پارٹی کو اندازہ ہے کہ اس صورت
میں پسپاءی کتنی مہلک ہو گی؟اگر آپشن یہ ہے کہ اپوزیشن کو اسمبلی میں
گھیرا جاءے اور کہا جاءے کہ پیکیج کو بہتر کرلو تو کیا گیلانی صاحب یہ
کریں گے؟ کہیں یہ پیکیج بھی جلدی میں تو نہیں آگیا ؟


Actions, not words, are needed
By Qurat ul ain Siddiqui
Wednesday, 25 Nov, 2009 (Dawn)


Activists of Baloch National Front chant anti-government slogans during a protest in Quetta on April 10, 2009. — AFP Photo

The government on November 24, 2009, announced the recommendations that constitute the ‘Aghaz-i-Huqooq-i-Balochistan’ (Beginning of the Rights of Balochistan) package. Although some of the recommendations are groundbreaking, many in the nationalist and separatist circles of Baloch leadership remain suspicious of the government’s intentions and have rejected the proposals point-blank.

‘In my opinion, bureaucratically drafted and promise-oriented (as opposed to action-oriented) announcements would not be useful to appease the aggrieved and politically conscious Baloch masses,’ says Sanaullah Baloch of the Balochistan National Party-Mengal (BNPM).

His concerns are echoed by Senator Hasil Bizenjo, the senior vice-president of the National Party. ‘People were expecting something decisive and much more significant given the hype that the government had created about it. In a matter of months, we will know that things will not change and that dissatisfaction in Balochistan is only going to increase.’

‘The government is saying that the military operation will be halted. Well, we know that will not happen. From what I see, the government is in fact gearing up for an even more intense operation in the region while constantly alleging Indian involvement in the nationalist and separatist movements,’ Ameen Baloch of the Baloch National Movement (BNM) says.

A vital clause in the package calls for ‘dialogue with all major stakeholders in the political spectrum of the province’ so they can be brought into the political mainstream. To that, Baloch leader and former minister Hyrbyair Marri, who has declared the recommendations ‘a package of lies,’ says, ‘I have not been contacted by the government and if they had contacted me or would do so in the future, my answer would be the same: we want our due right to independence.’

Reiterating that, Sher Mohammad Bugti, a spokesman for the Baloch Republican Party (headed by Brahmdagh Bugti), told Reuters: ‘People shouldn't be deceived by such things. It's a trick to weaken our struggle.’

‘Our campaign would go on despite the government's proposals,’ Bugti said by telephone from an undisclosed location.

While nationalist voices reject the package’s recommendations, some in Balochistan wonder whether such an approach will alleviate the current political mood in the province.

‘Some of these recommendations are very major. Who would have thought that the government would even think of, let alone speak about, announcing a course of action regarding the political prisoners and the missing persons,’ asks 24-year-old Mahrukh, a private school teacher in Quetta. ‘Has anyone ever suggested that the Frontier Corps (FC) in Balochistan can come under the control of the Chief Minister?’ she adds in an effort to give the government ‘its due credit.’

On the other hand, Ali Changezi, a Hazara student from Quetta, who is studying at a university in Karachi, feels ‘the negative reaction from the nationalists to such announcements is quite understandable.’

‘It is difficult to simply put away what Balochistan and the Baloch have experienced in the past with such announcements. I know Baloch men who have been missing for months. Their families do not care about political declarations; they want action. They want their brothers and sons and husbands back home,’ says Changezi. He also warns that past experience with the government has made many Baloch ‘wary and stubborn.’

In order to build real confidence, implementing these proposals is key. ‘Among the most important clauses of this package is the withdrawal of the army from Sui, bringing the FC under the chief minister’s control, and the political prisoners’ recovery. These measures, if and when implemented, will really boost the government’s credibility and alleviate some of the distress of the Baloch people,’ says Senator Rehana Yahya Baloch of the Pakistam Muslim League – Quaid (PMLQ).

BNPM’s Baloch also points out that the government lacks a clear political roadmap to follow through with its proposals. ‘The package lacks a clear political vision for the region. The Baloch are demanding an overall control and transformation of the Civil Armed Forces (CAF), including replacement of more than 50,000 aliens [non-Balochis] of the CAF, by unemployed Baloch youth.’

With these recommendations, pressure will mount for action; immediate and effective action. For his part, Bizenjo can’t help but wonder whether ‘this entire clamour was really necessary to recover the missing and to bring about real reforms in Balochistan.’

The writer can be contacted at quratulain.siddiqui@gmail.com

1 comment:

Sarah Khan said...

Great analysis Qais Anwar. It seems that Pakistan Army is not willing to compromise on its assumptions of national security in Balochistan. Another East Pakistan in making! What a pity!!

Post a comment

1. You are very welcome to comment, more so if you do not agree with the opinion expressed through this post.

2. If you wish to hide your identity, post with a pseudonym but don't select the 'anonymous' option.

3. Copying the text of your comment may save you the trouble of re-writing if there is an error in posting.