





Read more...
A project of 'Critical Supporters of Pakistan Peoples Party'
ثقلین امام
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

کیا ’ثروت مند‘ طبقہ صدر احمدی نژاد سے خوش نہیں ہے؟
ایران کے شہروں میں بارہ جون کے انتخابات کے نتائج کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں عوامی شرکت اگرچہ اس بات کا تو ثبوت ہے کہ وہاں تبدیلی کے خواہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، تاہم اگر چند بنیادی حقائق کو متواتر ذہن میں نہ رکھا جائے تو نشریاتی اداروں میں گردش کرنے والی خبریں بلا شبہ گمراہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
انتخابی نتائج کو’تقلب‘ یعنی دھاندلی کہنے والے لوگ شہروں کے امیر یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔تہران میں یہ طبقے شہر کے شمال اور مرکزی علاقوں میں رہتے ہیں جبکہ جنوبی تہران میں کم آمدنی یا لوئر مڈل کلاس کی آبادیاں ملیں گی۔ تقریباً یہی تقسیم چھوٹے شہروں اور قصبوں میں دکھائی دیتی ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران کے امیر طبقے جنھیں مقامی اصطلاح میں’ ثروت مند‘ کہا جاتا ہے، دنیا بھر کے دوسرے معاشروں کی طرح صرف اپنی سہولت کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں۔ اگر آپ نے محسن حامد کا ناول ’دا ری لکٹنٹ فنڈامینٹلِسٹ‘ پڑھا ہو تو اس میں جس پاکستانی ائیر کنڈیشنڈ کلاس کا ذکر کیا گیا ہے وہی تہران کے شمالی علاقوں کا طبقہ ہے۔
ایران میں بادشاہت کے زمانے سے لے کر اور اب بھی، یعنی اسلامی انقلاب کے بعد کے دور میں، ان کی غرض صرف یہ رہتی ہے کہ ان کے کاروبار اور نفع کے رستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ انقلاب کے دوران اور بعد میں جب اس طبقے نے دیکھا کہ ہوا کے ساتھ ہونے میں فائدہ ہے تو ان لوگوں نے اسلامی شعار اپنا لیے، مثلاً حجاب اوڑھ لیا یا داڑھی رکھ لی۔

سابق صدر ہاشمی رفسنجانی پر صدر احمدی نژاد نے انتحابی مہم کے دوران کئی الزامات لگائے تھے
اس طرح سے یہ طبقہ اسلامی انقلاب کے تیس برسوں میں ایرانی سیاست میں کسی نہ کسی طرح فعال رہا ہے۔ دوسرے ملکوں میں، خاص کر مغربی معاشروں میں، یہ سرمایہ دار طبقہ، عام طور پر عملی سیاست سے دور رہتا ہے۔ یہ طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بیک وقت بظاہر متضاد سیاسی گروہوں کواستعمال کرتا رہتا ہے۔ لیکن ایرانی معاشرے میں اس قسم کے طبقے کے افراد کا عملی سیاست میں شرکت کرتے رہنا ذرا منفرد ہے۔
شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اسلامی انقلاب کے تیس برس ایرانی معاشرے سے وہ طبقاتی اثرات مکمل طور پر ختم نہیں کرسکے جو ایران کے بادشاہی نظام نے کئی صدیوں میں مرتب کیے تھے۔ اس کے نتیجے میں لیڈری صرف ایلیٹسٹ لوگوں کےلیے مخصوص سمجھی جاتی رہی ہے۔ ایسے کئی تاریخی شواہد موجود ہیں کہ ایران کی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے لے کر دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادتیں اسی طبقے نے پیدا کی ہیں۔
انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے پسماندہ طبقوں کو پہلی مرتبہ قائدانہ کردار ادا کرنے کا موقع ملا مگر شروع شروع میں اسلامی انقلاب کے اندر بھی اس کے خلاف ثروت مند طبقے نے مزاحمت کی۔ مثلاً جب ابوالحسن بنی صدر ایران کے پہلے صدر منتخب ہوئے تو انھوں نے اس وقت کے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے سکول ٹیچر، محمد علی رجائی، کو اپنی حکومت کے وزیر اعظم کے طور پر قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔
اس طرح انقلاب کے بعد بھی روایتی سرمایہ دار اور ان کے پروردہ طبقے کی فضیلت برقرار رہی۔ دوسرے لفظوں میں ایرانی معاشرہ اپنے اندر موجود برہمن طبقے کی برہمنیت ختم نہ کرسکا۔ لیکن بعد کے حالات کی پیش رفت نے آہستہ آہستہ اس طبقے کو کمزور کرنا شروع کردیا خاص کر جب ایرانی حکومت نے غریب طبقوں کی ترقی کے لیے بڑی بڑی رقمیں مختص کرنا شروع کردیں۔

جب احمدی نژاد صدر بنے تو انھوں نے تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی دولت کو عوام میں برابری سے تقسیم کرنے کا نعرہ دیا اور صدر بننے کے بعد اس پر عمل درآمد شروع کردیا
جب اسلامی جمہوریہ ایران کے پہلے صدر ملک سے بھاگ گئے تو محمد علی رجائی صدر منتخب ہوئے۔ مگر انتخاب کے دو ہنتوں کے بعد ہی وہ اپنے وزیراعظم، جواد باہنر، کے ہمراہ اگست انیس سو اکیاسی میں ایک بم دھماکے میں قتل کردیے گئے۔ اس طرح امام خمینی کی زندگی میں ہی پسماندہ طبقے کے لوگوں کو اعلیٰ قیادت حاصل کرنے کا جو موقع ملا تھا وہ اس دھماکے کے ساتھ ہی پھر سے خواب بن گیا۔
رجائی کے بعد آنے والے تین صدور جنھوں نے مجموعی طور پر چوبیس برس تک حکومت کی ان سب کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ ایران کے روایتی اعلیٰ طبقہ سے تھا۔ تا وقتیکہ ایرانی عوام نے اگست دو ہزار پانچ میں متومل طبقے کے ایک اہم ترین رکن، ہاشمی رفسنجانی، پر ترجیح دیتے ہوئے ایک غریب کاریگر کے بیٹے محمود احمدی نژاد کو اپنا چھٹا صدر منتخب کرلیا۔
تاہم اس دوران ایرانی معاشرے کے سرمایہ داروں اور ان کے پروردہ طبقوں کے مفادات کی حفاظت ایلیٹسٹ صدور کے ہونے کی وجہ سے خود بخود ہوتی رہی۔ اور اس طرح یہ طبقے اگرچہ خود تو سیاست میں صف اول کا کردار ادا کرتے نظر نہ آئے مگر انھیں ہر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے موقع پر اپنے ڈالے ہوئے ووٹوں کی بدولت اپنے مفادات کی حفاظت ہوتی نظر آتی رہی۔
خاص کر ہاشمی رفسنجانی کے آٹھ برسوں کے دور صدارت جتنی بھی اقتصادی ترقی ہوئی اس کا فائدہ سرمایہ داروں کے چند مخصوص گروہوں کو پہنچا۔ اس طرح ایران کی دولت چند لوگوں میں مرتکز ہوتی رہی۔ ان چند گروہوں میں کچھ علما بھی ہیں جن کی نمائندگی رفسنجانی کرتے ہیں۔
اپنی دو مدتی صدارت کے اختتمام پر جب وہ انتخاب نہ لڑ سکے تو ہاشمی رفسنجانی نے اپنی ہی طرح کہ ایک امیر عالم، ناطق نوری کو صدارتی امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا۔ مگر عوام نے ناطق نوری کے برعکس اس وقت کے ایک صاف ستھرے اور قدرے غیر معروف امیدوار، سید محمد خاتمی کو منتخب کیا۔
خاتمی تھے تو صاف صدر مگر ان کا تعلق بھی روایتی طور پر اعلیٰ طبقے سے ہے۔ ان کے دور میں سیاسی اصلاحات کے لیے پیش رفت تو ہوئی مگر اقتصادی طور پر عدم مساوات کو دور کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہ ہوا۔ امیر طبقے امیر ہوتے رہے اور غریبوں کیلئیے نسبتاً حالات تنگ ہی رہے۔
تاہم جب احمدی نژاد صدر بنے تو انھوں نے تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی دولت کو عوام میں برابری سے تقسیم کرنے کا نعرہ دیا اور صدر بننے کے بعد اس پر عمل درآمد شروع کردیا۔ ایران کے پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے اس صدر نے اپنے طبقے کی مقبول اقدار جنھیں ایران کے مذہبی لوگ اسلامی اقدار کہتے ہیں، انھیں پورے تہران کے معاشرہ پر لاگو کرنے کی کوشش کی۔
اس طرح انقلاب کے بعد پھر سے تہران کے سرمایہ دار اور اس کے پروردہ طبقے نے اپنے آپ کو سیاسی طاقت سے محروم سمجھنا شروع کردیا۔ ایسا لگنے لگا ہے کہ ان کے لیے صدر خواہ کوئی بھی ہو مگر ایک پسماندہ طبقے کا فرد صدر نہیں ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر بارہ جون سے قبل انتخابی مہم کے دوران احمدی نژاد کے خلاف جو نعرے لگے ان میں ایک مقبول نعرہ یہ تھا ’یک ہفتہ، دو ہفتہ، محمود حمام نہ رفتہ‘ یعنی ایک ہفتہ یا دو ہفتہ سے محمود حمام نہیں گیا ہے۔

احمدی نژاد کی سابق صدر رفسنجانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ایک تصویر
اس طرح کے اور بھی کئی نعرے لگائے گئے جو محمود احمدی نژاد کے پسماندہ طبقے سے تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے تہران کے ثروت مند طبقے کی بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ میر حسین موسوی جو اپنی ذات میں ایک شریف شخص ہیں، بہرحال روایتی طور پر شمالی تہران کے ثروت مند طبقے کے رکن ہیں۔ موسوی کے حامیوں میں تمام کی تمام بڑی شخصیات ثروت مند طبقے سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔
ان لوگوں کی امید بندھی کہ بارہ جون کے انتخابات میں موسوی کی فتح سے وہ اپنی کھوئی ہوئی سیاسی قوت دوبارہ سے حاصل کرلیں گے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ اب جب کہ قدرے پسماندہ طبقات اور دیہاتی ایران نے محمود احمدی نژاد کو دوبارہ چار برسوں کے لیے صدر منتخب کرلیا ہے تو اس ایلیٹسٹ سیاسی قیادت کے لیے یہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔
اس طبقے کی سیاسی محرومی صرف احمدی نژاد کے صدر منتخب ہونے کی وجہ سے ہی نہیں ہے بلکہ ایران کے پارلیمانی انتخابی نظام کا ایک خاص انداز بھی ہے۔ ایران میں پارلیمانی انتخاب جغرافیائی حلقوں کی صورت میں نہیں ہوتے ہیں بلکہ یہ متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے تہران کے متمول علاقے کے لوگ اس بڑے شہر کے تقریباً بیس اراکین پارلیمان میں سے کسی ایک کو بھی اپنے مفادات کا نمائندہ محسوں نہیں کرتے ہیں۔
صدارتی انتخاب میں ہی اب تک وہ کسی نہ کسی کو اپنے طبقے کا نمائندہ سمجھتے رہے ہیں۔ لیکن احمدی نژاد کے بعد سے وہ اپنے آپ کو ایران کے سیاسی نظام میں سے خارج سمجھتے ہیں۔ اور جب یہ طبقہ اپنی پوری طاقت کے باوجود ایک باہر کے شخص کو شکست نہ دے سکا تو یہ اپنے ہی بنائے گئے اصول و ضوابط کو توڑ کر حکمرانی اپنے طبقے میں لانے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/06/090617_iran_social_saqlain_uk.shtml
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

وانا میں تیسری مرتبہ ایف ایم سٹشن کو نشانہ بنایا گیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے جمعہ کی شب صدر مقام وانا میں سرکاری ریڈیو سٹیشن پر حملہ کر کے سٹیشن کے تمام آلات قبضے میں لے لیے اور عمارت کو بارود سے اڑا دیا۔
دوسری طرف مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وانا ریڈیو سٹیشن پر حملے کے بعد جمعہ کو عام شہریوں نے سکاؤٹس قلعہ کے سامنے سرکاری املاک میں لوٹ مار شروع کی۔
ایک شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ وانا بازار کے مغربی حصے میں واقع پریس کلب، ریڈیو پاکستان، نو تعمیر شدہ رہائشی کوارٹر، جنگلات کے دفتر اور سول ہسپتال کے کوارٹر میں عام شہریوں نے لوٹ مار شروع کر دی اور وانا بازار سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ لوٹ مار کے لیے وہاں پہنچ گئے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی اینٹیں اٹھارہا تھا، کوئی لوہے کے سامان کو گاڑیوں میں ڈال رہا تھا۔حتیٰ کہ جو بھی سامان ان کے ہاتھوں میں لگا وہ لے جا رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں بجلی کے تار؛ ٹرانسفرمر اور کھمبوں کو بھی اُکھاڑ دیا گیا اور گاڑیوں میں ڈال کر لے گئے۔
کوئی اینٹیں اٹھارہا تھا، کوئی لوہے کے سامان کو گاڑیوں میں ڈال رہا تھا۔حتیٰ کہ جو بھی سامان ان کے ہاتھ لگ رہا تھا وہ لے جا رہے تھے۔ اس علاقے میں بجلی کے تار؛ ٹرانسفرمر اور کھمبوں کو بھی اُکھاڑ دیا گیا اور گاڑیوں میں ڈال کر لے گئے
ایک شہری
حکام کے مطابق متاثرہ علاقے میں ٹینک اور سینکڑوں کی تعداد میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار کے پہنچ گئے ہیں اور لوٹ مار کرنے والے لوگ واپس چلے گئے ہیں۔وانا بازار غیر اعلانیہ طوربند ہوگیا ہے۔ لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے گاڑی میں لاؤڈ سپیکر لگایا ہے وہ بار بار یہ اعلان کرہے ہیں کہ جنگ کا کوئی خطرہ نہیں ہے، لوگ گھروں کے اندر رہیں، کوئی بھی باہر آنے کی کوشش نہ کرے۔
وانا بازار کے ایک ہسپتال میں موجود ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ بازار مکمل طورپر بند ہوگیا ہے سکاؤٹس فورس کے سینکڑوں اہلکاروں نے اونچی اونچی عمارتوں پر پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں ہے اور وانا بازار سے ملنے والے تمام راستوں کو بھی بند کیا ہے۔
اس سے پہلے حملہ آوروں نے ریڈیو سٹشن پر حملے کے بعد قریب ہی نو تعمیر شدہ لیویز کی چیک پوسٹ کو بھی دھماکے سے تباہ کر دیا۔
یہ وانا ریڈیو سٹیشن پر اپنی نوعیت کا تیسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل سن دو ہزار چار میں اس ریڈیو سٹیش کے قائم ہونے کے چند ہی روز بعد نامعلوم مسلح افراد نے اسی طرح بم نصب کرکے اس کی نشریات بند کر دی تھیں۔
دوسری مرتبہ بیس مارچ سن دو ہزار چھ میں بھی نامعلوم افراد نے سٹیشن کے انٹینا کو بم سے اڑا دیا تھا جس کی وجہ سے کئی ہفتوں تک اس کی نشریات معطل رہی تھیں۔
وانا میں مقامی انتظامیہ کا کہنا کہ گزشتہ رات دو بجے کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے وانا سرکاری ریڈیو سٹیشن کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور عمارت کے دروازوں کو توڑ کر سٹیشن کے تمام آلات کو گاڑیوں میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔
انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ عمارت کو الات سے خالی کرنے بعد نامعلوم افراد نے عمارت میں بارود سے دھماکے کیے جس سے عمارت کے دو کمرے مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

وانا ریڈیو سٹیشن کی تباہ شدہ عمارت کا ملبہ
انہوں نے کہا کہ ریڈیو سٹیشن کے قریب ہی لیویز کی ایک چوکی کو بھی دھماکے سے مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ لیویز کی چوکی کچھ عرصہ پہلے ہی مکمل ہوئی تھی جس میں ابھی تک لیویز اہلکاروں کو تعینات نہیں کیا گیا تھا۔ دھماکے کے وقت چوکی خالی پڑی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ریڈیو سٹیشن کی عمارت میں خاصہ دار فورس کے اہلکار موجود تھے لیکن ان کو نامعلوم افراد نے کچھ نہیں کہا اور ان کو دھماکے سے پہلے عمارت سے نکال دیا۔
ریڈیو پاکستان وانا سٹیشن سے روزانہ ساڑھے چھ گھنٹے کی نشریات ہوتی ہیں جو تمام کی تمام مقامی وزیرستانی لہجے والی پشتو میں ہوتی تھیں۔
اس کے ذریعے اسلامی پروگراموں کے علاوہ سپورٹس اور علاقے میں حکومت کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پروگرام نشر ہوتے تھے۔ دو سال پہلے خبریں اور موسیقی بھی سنائی جاتی تھی۔ لیکن مقامی طالبان کی طرف سے دھمکی ملنے کے بعد خبریں اور موسیقی کے پروگراموں کو بند کرنا پڑا تھا۔
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اس گروپ کی قیادت زین الدین محسود کر رہے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک مسلح گروپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ بیت اللہ محسود سے جنڈولہ میں گزشتہ دنوں ہوئے خودکش حملے کا بدلہ ضرور لیں گے تاہم عام قبائلیوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔
کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے اپنے آپ کو عبداللہ محسود گروپ کا ترجمان قرار دینے والے شخص طوفان محسود نے الزام عائد کیا کہ بیت اللہ محسود گروپ کے مساجد پر حملوں اور قرآن کو مبینہ طور پر نظر آتش کرنے کے ان کے پاس ثبوت موجود ہیں۔
اس گروپ کی قیادت زین الدین محسود کر رہے ہیں اور یہ کچھ عرصہ قبل قائم کی گئی تھی۔ اس میں ترکستان بیٹنی نامی شخص بھی شامل ہے جس کو ہلاک کرنے کی بیت اللہ گروپ کئی مرتبہ کوشش کر چکا ہے۔
بیت اللہ محسود کی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جنڈولہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
Source: http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/03/090328_baitullah_revenge_ra.shtml


















2 hours ago
WASHINGTON (AFP) — The United States has vowed to put the heat on Pakistan's spies in its new regional strategy, with top officials openly accusing elements in powerful intelligence agency of abetting Al-Qaeda.
President Barack Obama on Friday unveiled a plan to root out extremism in Afghanistan and Pakistan by boosting troops and drastically increasing civilian personnel and aid to the region.
Richard Holbrooke, the US special envoy to the region, said he would visit Pakistan again next week to follow up on the plan. Of all issues, investigating the nuclear-armed nation's spy network "is the most important," he said.
"The issue's very disturbing," Holbrooke told public television's "Newshour with Jim Lehrer," when asked if Pakistan's Inter-Services Intelligence (ISI) was assisting Al-Qaeda and Taliban extremists.
"We cannot succeed if the two intelligence agencies are at each others' throat or don't trust each other and if the kind of collusion you referred to is factual," Holbrooke said.
General David Petraeus, the commander of US forces in Afghanistan and Iraq, did not dispute that ISI elements have tipped off extremists to let them escape US-led forces.
"There are some cases that are indisputable in which that appears to have taken place," Petraeus told the same program.
During the Cold War, the ISI worked with the CIA to arm Islamist groups that fought Soviet forces in Afghanistan. The ISI later backed the Taliban, which imposed an medieval brand of austere Islamic rule on the war-torn country.
Pakistan switched from top Taliban backer to frontline US ally after the September 11, 2001 attacks. But the ISI has long faced allegations of insubordination to Pakistan's government, now led by US-friendly civilian President Asif Ali Zardari.
The New York Times reported Thursday that US officials had found evidence that ISI operatives offered money, military supplies and even strategic planning to Taliban commanders.
Links between the Taliban and ISI "are very strong and some unquestionably remain to this day," Petraeus told public television. "It is much more difficult to say at what level."
Such open criticism of the ISI will be music to the ears of India, which accuses Pakistani intelligence of plotting attacks in divided Kashmir and involvement in last year's bloodbath in Mumbai that killed 165 people.
Admiral Mike Mullen, the top US military officer, told CNN there were "certainly indications" of ISI involvement with Al-Qaeda and the Taliban.
He voiced hope that the new US "regional approach" would try to reduce tensions over Kashmir, allowing Pakistan to re-deploy troops away from arch-enemy India and to Afghan border areas.
Obama branded Al-Qaeda a "cancer that risks killing Pakistan from within," calling the extremists responsible for thousands of deaths and waves of destruction against Pakistanis.
He offered a major boost in aid and training to Pakistan but also issued a veiled warning.
"Pakistan must demonstrate its commitment to rooting out Al-Qaeda and the violent extremists within its borders," Obama said.
"And we will insist that action be taken -- one way or another -- when we have intelligence about high-level terrorist targets," Obama said.
Obama has continued George W. Bush's policy of unmanned drone attacks inside Pakistan, which are said to have killed high-level extremists but also civilians -- inflaming Pakistani public opinion.
Pakistan has urged the United States to let it carry out the drone attacks, but US officials have feared that elements within the ISI would warn the extremists.
Holbrooke acknowledged frustrations, calling the fight to bring stability to Pakistani border areas "the most daunting challenge" of the new regional plan because Pakistan had imposed a "red line."
"The red line is unambiguous and stated publicly by the Pakistani government -- no foreign troops on our soil," Holbrooke told reporters.
"You can have a great government in Kabul -- a government that fulfills every criteria of democratic governance -- and if the current situation in western Pakistan continues, the instability in Afghanistan continues," Holbrooke said.
"We all know that."
Copyright © 2009 AFP. All rights reserved11 hours ago
WASHINGTON (AFP) — There are "indications" that elements of Pakistan's intelligence service lend support to Al-Qaeda and Taliban militants, the top US military officer said on Friday.
"There are certainly indications that's the case," Admiral Mike Mullen told CNN when asked if elements of Pakistan's spy agency were backing the Al-Qaeda network and its Taliban allies.
"Fundamentally that's one of the things that has to change."
Pakistan's Directorate for Inter-Services Intelligence (ISI) has been widely accused of refusing to sever its links with Islamist groups that date back to the Cold War and the US-backed fight against Soviet forces in Afghanistan.
After the September 11 attacks, Washington demanded that Islamabad ensure the ISI cut its ties with the Taliban and Al-Qaeda, but there have been persistent reports that some members of the spy service remain in league with the extremist networks.
India has directly accused the powerful military intelligence agency of involvement in last year's Mumbai attacks that killed 165 people.
Pakistani officials have denied the government has links to the Mumbai attackers or to Al-Qaeda and its allies.
Mullen's comments came as President Barack Obama unveiled a new strategy for the war in Afghanistan, in which he called for Islamabad to crack down on insurgents operating within Pakistan's borders.
The admiral earlier told reporters that Pakistan's role posed a major challenge to the war in Afghanistan, although he acknowledged that Islamabad had made some progress in fighting insurgents on its border with Afghanistan.
"They've moved dramatically over the last seven, eight months with their Frontier Corps who's had a big impact," Mullen said, referring to Pakistan's troops on the western border.
"It's dramatically improved" compared to two years ago, he added. "They've done pretty well, they've done a lot."
Larger numbers of Pakistan regular army troops were also now operating in the border area in recent months, he said.
Mullen expressed hope for more progress but said there was a "trust deficit" between Pakistan and the United States that he and other government officials were working to overcome.
A crucial part of the new strategy for Afghanistan was a "regional approach" that would try to reduce tension on Pakistan's eastern border with India over the disputed territory of Kashmir to free up Pakistani troops to counter militants on the western border, Mullen said.
"One of the reasons the regional approach is so important is to de-tension the Kashmir border so that the Pakistani military is not completely tied up on that border, and they are able to train, equip and fight on the western border in the counter-insurgency effort," he said.
Pakistan sees itself as fighting a "two-front" war, in Kashmir and against Islamist insurgents in the northwest, he added.
Asked about what leverage the United States had over Pakistan, Mullen suggested that aid Washington was offering might be linked to progress in fighting insurgents.
"There are linkages between support, aid, whatever the case might be, that I think we need to evaluate in terms of that assistance," he said.
http://www.google.com/hostednews/afp/article/ALeqM5jhO2_r-PUVoNPChd4EFxia7s90YgMehsud brought it on himself

* Washington Times report says Americans realise TTP chief is real threat
Daily Times Monitor
LAHORE: The US military, which avoided hitting Baitullah Mehsud’s forces in 2007 and 2008 when the Taliban leader waged a campaign of suicide bombings inside Pakistan has started sending unmanned aircraft to target them to pre-empt a Taliban spring offensive in Afghanistan.
This, according to a Washington Times analysis, is a potentially significant development because territory controlled directly by Mehsud does not touch the Afghan border. Mehsud’s Tehrik-e-Taliban Pakistan has recently formed an alliance with two other warlords and through them now has an inlet to Afghanistan.
It quoted Sarfaraz Khan, a professor at the University of Peshawar, as saying: “In order to stop unifying Taliban groups from launching massive attacks against NATO and in particular newly arriving US troops in Afghanistan, such attacks have become indispensable on Americans’ part.”
This Sunday, two missile suspected to have come from US drones killed up to 12 people and injured scores in a Mehsud stronghold in South Waziristan.
Other attacks on Mehsud followers have been reported in Kurram and Khyber Agencies. Asked last week whether Mehsud posed a threat to US and NATO forces in Afghanistan, CIA director Leon Panetta said:
“Obviously ... we have identified those militants and terrorists that constitute a threat not only to US forces and to Americans and people in Afghanistan, but also those that constitute threats to the Pakistanis, and we are working with the Pakistanis to identify those who represent common threats to both of us in our efforts.”
Panetta added: “What is important is that we do everything possible to disrupt their leadership and to make sure that they are not able to come together in a way that makes them effective in terms of going after Americans.”
Both Pakistani and US officials have accused Mehsud of leading the December 2007 assassination of former prime minister Benazir Bhutto. Mehsud denied involvement, and some PPP leaders later said they doubted he was responsible.
The apparent immunity of Mehsud and his forces from US drone attacks had prompted a spate of rumours that he was somehow involved with the Americans.
Syed Alam Mehsud, vice president of the Pakhtunkhwa Milli Awami Party in the North West Frontier Province, said the missile strikes will have a profound impact.
“It seems the Americans have come to realise that after the unification of major Taliban groups and Baitullah being its head, the TTP chief is the real threat,” he said.
He added, “I think Baitullah’s turn has come. The reason is the anticipated spring offensive of Taliban to start in April and the arrival of thousands of additional [US troops] in Afghanistan’s south.”
http://dailytimes.com.pk/default.asp?page=2009\03\05\story_5-3-2009_pg7_11
Link to the Washington Times article:
http://www.washingtontimes.com/news/2009/feb/24/pakistani-taliban-unite-against-us/
WASHINGTON: Chief of Army Staff (COAS) General Ashfaq Parvez Kayani called on Mr Robert Gates, Secretary of Defence, Admiral Michael Mullen and General George Casey.Fazlullah declares indefinite ceasefire
* Asks his men to stop displaying weapons, end attacks on military vehiclesہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |
![]() | |
| سوات میں امن معاہدے کے بعد کافی سکون نظر آ رہا ہے |
دوسری جانب امریکہ نے پاکستان کے اندر جاسوس طیاروں سے حملے بند کرنے کی بجائے اس میں شدت لانے کا عندیہ دیا ہے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سلیم صافی کہتے ہیں کہ طالبان سمجھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ان کے لیے ناصرف کام بڑھ رہا ہے بلکہ خطرات بھی بڑھ رہے ہیں تو شاید یہ اس کے لیے تیاری ہو رہی ہے۔
@fanaticmulla
Your analysis could be 100% correct, look at the following news, looks like circus masters have finally decided to put this beast back in the cage.

well i think Taliban do not do anything unless green signal is given by ISI, now ISI gave green signal to Mulla Commander Omer haji (to block the NATO transit) and he executed the task with success….
todays latest development that Mulla Faqeeru announced a cease fire and also siad that they will not go to Afghanistan for fighting…at the moment it seems that ISI has some sort of control over Talibans and as long as it stops mess and killings, its useful……