Editor's Choice

Featured Post

"Let us build Pakistan" has moved.
30 November 2009

All archives and posts have been transferred to the new location, which is: http://criticalppp.com

We encourage you to visit our new site. Please don't leave your comments here because this site is obsolete. You may also like to update your RSS feeds or Google Friend Connect (Follow the Blog) to the new location. Thank you.


Wednesday, 14 October 2009

Southern Pubjab: the unknown hub of Al Qaeda and Taliban

Riversides may be housing some militants
By Tariq Saeed Birmani
Tuesday, 13 Oct, 2009
In 2007, Maulvi Ismaeel, local cleric, convinced 122 gangsters operating in the area to surrender their arms before police in return for immunity from prosecution. After surrendering, these criminals went for preaching missions along with Maulvi Ismaeel. —File Photo

DERA GHAZI KHAN: Rajanpur may be the first stopover of the Taliban in Punjab if the activities of a group of robbers-turned-preachers in the riverside of the district are to be taken into account.

Dawn learnt the riverside of the district has long been ruled by Chhoto Bakrani, Ayuba Lathani, Pehlwan, Pat and Rana gangs where these gangsters have made their hideouts. The area is a no-go for both the police and the public.

In 2007, Maulvi Ismaeel, local cleric, convinced 122 gangsters operating in the area to surrender their arms before police in return for immunity from prosecution. After surrendering, these criminals went for preaching missions along with Maulvi Ismaeel.

At present, these criminals-turned-preachers have started their criminal activities under the disguise of the local Taliban. A senior police officer told Dawn that that there was need for a police operation in the riversides of Rahim Yar Khan and Rajanpur to cleanse the area of these miscreants who are only 30 in number. The police officer said there should be two police posts in the Kacha area of Rajanpur.

Rajanpur DPO Shahid said a major operation in the area was under consideration.

Also, the recent developments taken place in Dera Ghazi Khan have put the district in limelight. Otherwise a calm and peaceful district, the area was rocked by a suicide attack on a religious gathering in the Dera Ghazi Khan city on Feb 5 this year. Later on, police remarkably traced the mastermind of the blast and arrested Qari Ismaeel and his accomplices Mustafa Qaisrani and Waqas.

Law enforcements agencies picked up several suspects in Dera Ghazi Khan after the terrorist attacks on the Manwan police training centre and the Sri Lankan team in Lahore. Teenage Zubair, alias Naik Mohammed, and seven others linked with the Lahore attacks were arrested in April. In May, the foreign media reported about the alleged presence of militants in Choti Zaireen and Shadan Lund.

In July, the district police seized a heavy cache of weapons from Shadan Lund, which were brought to the district from restive Waziristan. Alleged militant Abdullah, alias Shani, was shot dead in the operation while police arrested Musa, Amanullah, Manzoor, Kaleem and Bashir in a shootout.

In September, police arrested six teenagers in Choti Zaireen allegedly trained in militancy in Waziristan.

District Police Officer Dr Rizwan says the developments point to the vigilance of police which are ready to combat the terror threat. He said there were no training centres or hideouts here though Dera Ghazi Khan was a neighboring district to South Waziristan.

Sources told Dawn the Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP) had links with Punjabi members of the banned Jaish-i-Muhammad and the Lashkar-i-Taiba and through these miscreants the TTP carried terrorist attacks in Punjab. They said Mehsood and Wazir tribes were not able to strike in the cities of Punjab on their own.

Sources say the LT and JM militants are not more than 30 in number but they are trained and equipped with unconventional weapons which make them a fierce enemy. (Dawn)

Terrorists are entering Punjab through DI Khan: DG Rangers Punjab

LAHORE: DG Rangers Punjab, Major General Yaqoob Khan has said that the terrorists enter Punjab through Dera Ismail Khan, saying that the terrorists are getting training in a Frari Camp in Kho-e-Sulemani.
While talking to a private TV channel, the DG Rangers Punjab said that the tribal belt of Rajanpur is linked with tribal belt of DI Khan, while the belt of DI Khan is linked to North and South Waziristan and the terrorists are using that way to enter in Punjab along with arms.
He informed that the said belt of DI Khan was used for entering the tribal areas of Balochistan, adding that no police and rangers force exist in the area of Fort Manwara and the Border Police is appointed there.
Major General Yaqoob Khan said that the border police has influence of Sardars of their areas and have no proper training, however, the force is functioning in some No Go Areas of Punjab. Major General Yaqoob Khan disclosed that terrorists have their links in FATA.—Agencies


پنجاب کے قبائلی علاقوں پر رینجرز رپورٹ

سات صفحات پر مشتمل اس دستاویزی رپورٹ میں دو نقشے بھی شامل ہیں

جنوبی پنجاب کی نیم قبائلی علاقے کو پاکستان کے سکیورٹی فورسز کے بعض اداروں نے شدت پسندوں کا گڑھ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے متصل اس علاقے میں مناسب اقدامات کیے بغیر نہ تو کوئی فوجی آپریشن مکمل کامیابی حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی پنجاب اور پاکستان کے دیگر وسطی علاقوں میں شدت پسندوں کا نیٹ ورک مکمل طور پر تباہ کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان فوج ان دنوں جنوبی وزیرستان میں طالبان اور دیگر شدت پسند گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاریاں کررہی ہے۔ اس موقع پر پاکستان رینجرز نے اپنی ایک رپورٹ میں جنوبی پنجاب میں موجود ممکنہ سکیورٹی رسک کی نشاندہی کی ہے۔

یہ رپورٹ ابتدائی طور پر پاکستان رینجرز نے مرتب کی اور اسے فوج، محکمہ داخلہ اور مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کو بھجوایا۔

سات صفحات پر مشتمل اس دستاویزی رپورٹ میں دو نقشے بھی شامل ہیں جن میں پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان اورضلع راجن پور کے اس علاقے کی نشاندہی کی گئی ہے جو جنوبی وزیر ستان سے شروع ہوتا ہے اور بلوچستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ سندھ کے علاقے کشمور تک پہنچتا ہے۔

یہ تمام علاقہ دریائے سندھ سے اوپر ہے اور کچھ کو کچے کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی وزیر ستان سے شدت پسند اس علاقے میں آسانی سے داخل ہوتے ہیں اور یہیں پر ان کے ٹریننگ سینٹر بھی موجود ہیں۔ رپورٹ میں ان چار دینی مدرسوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو مبینہ طور پر عسکریت کے پھیلاؤ میں ملوث ہیں۔

رپورٹ مرتب کرنے والی سکیورٹی فورس کا کہنا ہے کہ اگرچہ علاقے میں ایک سو نواسی رجسٹرڈ دینی مدارس ہے لیکن چار دینی مدرسے ایسے ہیں جن کے شدت پسند گروپوں سے روابط کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان رینجرز کے ترجمان ندیم رضا نے رپورٹ مرتب کیے جانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ وہ خود اس علاقے میں فرائص انجام دیتے رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ایک بڑا علاقہ ایسا ہے جہاں پاکستان کے کسی قانون کی عملداری نہیں ہے۔

رپورٹ میں ان مدرسوں کی نشاندہی بھی کی گئی جو مبینہ طور پر عسکریت پسندی کے پھیلاؤ میں ملوث ہیں

اس رپورٹ میں علاقے کی تین اہم مذہبی شخصیات کےنام دیئے گئے ہیں جن میں سے ایک اسلام آباد کی لال مسجد کےامام مولانا عبدالعزیز غازی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔دوسری اہم شخصیت کے ایک ایسے مدرسےکے منتظم ہیں جو بجلی سے محروم علاقے میں قائم ہے لیکن اس کے باوجود اس کا اپنا جرنیٹر چوبیس گھنٹے چلتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ انہیں ڈالرز میں فنڈز ملتے ہیں اور انہوں نے متعددبار مقامی منی چینجرزسے بھاری تعداد میں امریکی ڈالروں کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کرایا۔

تیسری مذہبی شخصیت نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود اچانک دولت مند ہوچکی ہے اور مبینہ طور پر اسلحہ کی سمگلنگ میں ملوث ہے۔

پاکستان رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب یعقوب کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ ان علاقوں ایسے حصوں میں بھی غیر ملکی سفارتکار آزادانہ اور محفوظ سفر کرتے ہیں جہاں پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کی بھی رسائی نہیں ہے اور یہ رپورٹس بھی موجود ہیں کہ ان سفارتکاروں نے مقامی لوگوں کو پیسے دیے ہیں۔ٰ

دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں حصہ دار بننے کے بعد پاکستانی حکام نے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ان تمام قبائلی علاقوں کو بندوبستی علاقہ قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا اورصدر پرویز مشرف کےدور میں یہاں دو تھانے اور پندرہ پولیس چوکیاں تعمیر کی گئیں لیکن آج تک کسی پولیس اہلکار کووہاں پہنچنے کی جرات نہیں ہوئی۔

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ’ یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ اس علاقے میں شدت پسند اکٹھے ہوتے ہیں۔مدرسے انہیں مدد فراہم کرتے ہیں، ان کی تربیت کی جاتی ہے اور فاٹا کے عسکریت پسندوں سے ان کے براہ راست رابطے ہیں۔

پاکستان رینجرز کے جوان اس قبائلی پٹی پر ڈیوٹی دیتے رہے ہیں اور چند برس سے کشمور اور روجھان میں تعینات ہیں جہاں ان کی ذمہ داری قدرتی گیس کی پائپ لائن کی حفاظت ہے۔

قبائلی علاقے سے محلقہ کوہ سلیمان کے پانچ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ باڈر ملٹری پولیس کے زیر انتظام دیا گیا لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں مروجہ اصول اور روایات کے مطابق جدید اسلحہ رکھنا کوئی جرم نہیں ہے اور خطرناک مجرم قتل ڈکیتی رہزنی اور اغوا برائے تاوان جیسی واردواتوں کے بعد اس علاقے میں پناہ لیتے ہیں۔ اسی علاقے میں فراری کیمپس بھی ہیں جہاں رینجرز حکام کے بقول جہادی گروپوں کو بھی عسکری تربیت فراہم کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے اس جنوبی علاقے کو محفوظ بنانا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے البتہ اس علاقے کے حالات کےبارے میں اعلی حکام کو آگاہ کیا جاچکا ہے۔

راولپنڈی میں فوجی ہیڈکواٹر پر حملہ کرنے والوں میں سے نصف کا تعلق پنجاب سے ہے اور تحریک طالبان کے ترجمان نے انہیں اپنا جگرکا گوشہ قرار دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے اپنے ایک تازہ اخباری بیان میں جنوبی پنجاب میں شدت پسندی کی اطلاعات کو پراپیگنڈہ قرار دیا ہے لیکن بعض وفاقی سکیورٹی فورسز کے حکام کا خیال ہے کہ وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے سے پہلے جنوبی پنجاب کے قبائلی علاقوں کا مناسب بندوبست نہ کرنا ایک غلطی ہوگی۔

جنوبی پنجاب کے قبائلی علاقے کے بارے میں جو رپورٹ اس وقت پاکستان کی فوج، محکمہ داخلہ، محکمہ دفاع سمیت تمام خفیہ سول وملٹری خفیہ ایجنسیوں کے پاس موجود ہے اس میں یہ جملہ لکھا ہے۔

’یہ قبائلی پٹی قانون شکنوں کی نرسری اور ان کی جنت ہے۔

No comments:

Post a comment

1. You are very welcome to comment, more so if you do not agree with the opinion expressed through this post.

2. If you wish to hide your identity, post with a pseudonym but don't select the 'anonymous' option.

3. Copying the text of your comment may save you the trouble of re-writing if there is an error in posting.