Editor's Choice

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Featured Post
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

"Let us build Pakistan" has moved.
30 November 2009

All archives and posts have been transferred to the new location, which is: http://criticalppp.com

We encourage you to visit our new site. Please don't leave your comments here because this site is obsolete. You may also like to update your RSS feeds or Google Friend Connect (Follow the Blog) to the new location. Thank you.


--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

Wednesday 26 August 2009

Who is Brigadier Imtiaz?



’سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی‘

جس نے بھی یہ کہاوت کہی کیا خوب کہی تھی کہ ’سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔‘ ضیاء الحق سے لیکر نواز شریف کی حکومتوں تک پاکستان پرخفیہ ایجینسیوں کی حکومت کے ایک طاقتور کردار ریٹائرڈ بریگيڈئير امتیاز با المعروف ’برگیڈيئر بلا‘ دو دہائيوں کی خاموشی کے بعد ایران کونٹرا سیکنڈل والے کرنل اولیور نارتھ کی طرح طوطا مینا ٹائپ جنگي کہانیوں سے واپس آئے ہیں۔ میں اسے ’ویمپائر اسٹرائیکس بیک‘ کہوں گا۔

اب وہ اپنے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ’آدھی شب کا گیدڑ نہیں بلکہ دن دہاڑے چیتا ہے۔‘

مجھے کوئی حیرت نہیں ہوگی کہ کسی صبح کوئي پاکستانی نجی چینل آن کرنے پر سدا امر آمر جنرل ضیاء الحق بھی بیٹھا کہہ رہا ہوگا کہ دنیا و دین کی بھلائی کے لیے وہ جان سے گزر گئے تھے۔ اور یہ کہ ’پاکستان میں آمر مرتے نہیں زندہ ہوتے ہیں۔‘ مرتے صرف بھٹو ہیں، نذیر عباسی ہیں، کہ یہ سولہ کروڑ گیدڑوں کا جنگل ہے جہاں نیم شب کی کوئی صبح نہیں۔ جہاں کی نجی چینلوں پر صبح شام کوئی میجر عامر، کوئي بریگیڈیر با اللہ، کوئی جنرل با پردہ ناصر، کو‏ئي حمید گل کوئی درانی بالم بنے بول رہے ہوتے ہیں۔

نذیر عباسی کون تھا؟

نذیر عباسی پاکستان کے بائيں بازو کا وہ طالبعلم رہنما تھا جسے دوران قید مبینہ طور پر کل کے سندھ میں آئي ایس آئی کے کرنل اسی بریگيڈيئر امتیاز کے حکم پر تشدد کر قتل کردیا گیا تھا۔ نذیر عباسی کے ساتھی اور دوست اور نذیر عباسی کی بیوہ حمیدہ گھانگرو کی طرف سے بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں انیس سو چورانوے میں کٹوائی جانے والی ایف آئی آر بھی یہی کہتی ہے۔ تیس جولائي انیس سو اسی کو کراچی کے نارتھ ناظم آباد کی ایک بستی کے ایک کوارٹر سے نذیرعباسی کو اپنے ساتھیوں بدر ابڑو (مصنف اور ماہر آثار قدیمہ)، سہیل سانگي (صحافی)، شبیر شر (اب سندھ میں انسانی حقوق کے وکیل)، احمد کمال وارثی (مزدور رہنما) اور پرفیسر جمال نقوی کو فوجی ایجنسی اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔

سندھ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر نذیر عباسی کی وہ کئي دنوں سے تلاش میں تھے۔ ’آج بھی وری ہو فاشی کتا مونکھے قابو کن تھا‘، شیخ ایاز کی مشہور نظم ہے۔ (|آج وہ فاشی کتے مجھے پھر قابو کرتے ہیں‘)۔ دبلا پتلا کنگلا لیکن خوبصورت شکل، خوبصورت آواز ذہن و دل والا نذیر عباسی جناح ہسپتال کے قریب قائم خفیہ ایجینسوں کے نیئپیر بیرکس نام کے عقوبت گھر میں مبینہ طور پر آٹھ اور نو اگست کے درمیاںتشدد کر قتل کردیاگیا۔ نذیر عباسی اور اسکے ساتھی، پاکستانی خفیہ ایجیسسیوں کی نظروں میں را، خاد، کے جی بیکے ایجنٹ تھے۔ نذیر عباسی کا جرم یہ تھا کہ وہ پاکستان سطح پر طالب علموں، مزدوروں، کسانوں کی رابطہ کمیٹی کومنظم کرنے میں سرگرم تھا۔

نذیر عباسی کے لیے بتایا گیا تھا کہ ’حوالات میں اس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئي‘۔ معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی جس نے نذیر عباسی کی لاش کو غسل دیا تھا کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا تھا ‘جیسے کہ اس کے سر کو کسی شیشے سے ٹکرایا گیا ہو۔ ’وہ شخص جو شبخون میں مارا گیا ورنہ اس جیسا بہادرکوئی لشکر میں نہیں تھا‘ نذیر عباسی کے ریاستی قتل پر اس کے دوست شاعر معین قریشی نے کہا تھا۔ نذیر عباسی کا قتل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں پہلا ماورائے عدالت قتل تھا۔

پاکستان میں حزب مخالف خاموش کردینے کی کوشش کی گئي تھی اور ایسے میں یہ بڑی جرائتمندانہ آواز بیگم نصرت بھٹو کی تھی جس نے نذیر عباسی کے ضیا حکومت اور اس کی ایجینسیوں کے ہاتھوں تشدد میں قتل کی مذمت کی تھی جسے مجھے آج بھی یاد ہے بی بی سی نے نشر کیا تھا۔

’برگیڈيئر بلا‘ دو دہائيوں کی خاموشی کے بعد ایران کونٹرا اسیکنڈل والے کرنل اولیور نارتھ کی طرح طوطا مینا ٹائيپ جنگي کہانیوں سے واپس آئے ہیں۔ میں اسے ’ویمپائر اسٹرائیکس بیک‘ کہوں گا۔

کئي سال بعد شجاعت نام کے خفیہ ایجینسی کے اہلکار نے نذیر عباسی کے قتل کی تفتیش کرنے والے ادراے کے اہلکاروں کے سامنے بیان دیا تھا کہ ضمیر کے بوجھنے اسے چین سے رہنے نہیں دیا اور اسنے نذیر عباسی پر تشدد اس وقت کے آئي ایس آئي کے کرنل امتیاز کے حکم پر کیا تھا۔ کئي سال بعد انیس سو چورانوے میں نذیر عباسی کی بیوہ حمیدہ گانگھرو کی درخواست پر بینظیر بھٹو حکومت کے حکم پر سندھ پولیس نے برگیڈئیر امتیاز کے خلاف نذیر عباسی کے تحویل میں تشدد کے ذریعے مبینہ قتل کا مقدمہ درج کر کے ایف آئي آر سیل کردی تھی۔ ’اصل میں آج بینظیر بھٹو حکومت کا پہلا دن ہے‘، انیس سو چورانوے میں انٹیلیجنس بیورو کے اس سابق سربراہ کی گرفتاری کے وقت میرے صحافی دوست جاوید جیدی نے کہا تھا۔ اسکی گرفتاری کے دوسرے دن اسکی خبر کے ساتھ اخبارات میں پاکستان کے صحافیوں کی وہ فہرست بھی حکومت کی طرف سے جاری کی گئي تھی جو برگیڈيئر امتیاز اور اسکی انٹیلیجنس بیورو کے پے رول اور فوائد حاصل کرنے والوں میں شامل تھے۔

وہی برگیڈئیر امتیاز جو بعد میں نواز شریف کی پنجاب میں وزرات اعلیٰ اور پہلی وزرات اعظمیٰ کے دور میں اسکے کان اور آنکھیں تھا۔ وہ اصل میں اس وقت ’جیک دی رپر‘ ٹائپ کردار تھا۔

یہ جو کراچي اور سندھ دیکھ رہے ہو اس میں بشمول ایم کیو ایم کے ٹکڑے کروانے کے ان تمام فتنوں کے پیچھے دماغ اور پے رول برگیڈئیر امتیاز ہی بتائے جاتے ہیں۔ شاید اب بھی کسی بڑے کام کیلیے پھر اس گیدڑ نیم شب کو دن دیہاڑے چیتا بنایا گيا ہے۔

....

’طالبان کا جن امریکہ نے بوتل سے نکالا‘

کلِک

کلِکانٹرویو کا دوسرا حصہ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

بریگیڈئر (ر) امتیاز احمد پاکستان کی تاریخ کے پندرہ اہم برسوں تک خفیہ اداروں آئی بی اور آئی ایس آئی میں اہم عہدوں پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ انیس سو نوے میں ریٹائر ہوئے تھے تاہم انہیں وقتا فوقتاً سیاست میں مداخلت یا بدعنوانی کے الزامات کے تحت بےنظیر بھٹو اور صدر مشرف کے ادوار میں آٹھ برس تک قید بھی جھیلنا پڑی۔ ان پر بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خاتمے کے لیے ’آپریشن مڈنائٹ جیکل’ میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔

اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انیس برس کی طویل خاموشی توڑتے ہوئے انہوں نے بی بی سی اردو سروس کو ایک خصوصی انٹرویو دیا جسے دو اقساط میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی قسط افغانستان، طالبان اور شدت پسندی سے متعلق ہے جبکہ دوسری قسط میں بریگیڈئر امتیاز ’آپریشن مڈنائٹ جیکال‘ میں اپنے کردار پر روشنی ڈالیں گے۔

بریگیڈئر(ر) امتیاز

بریگیڈئر(ر) امتیاز بی بی سی اردو کے ہارون رشید کو انٹرویو دیتے ہوئے

پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ امتیاز احمد کے مطابق طالبان امریکہ کی پیداوار ہیں اور ’طالبان کا جن بوتل سے امریکہ نے نکالا تھا تاکہ اس خطے پر اپنی گرفت مضبوط کر سکے‘۔

بریگیڈئر ریٹائرڈ امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیرِداخلہ رحمان ملک اور سابق وزیرِداخلہ جنرل نصیر اللہ بابر امریکی ایماء پر افغانستان میں اس اسلامی تحریک کی داغ بیل ڈالنے گئے تھے۔ اس سوال کے جواب میں کہ طالبان کے خالق تو پاکستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر کو سمجھا جاتا ہے ستر سالہ بریگیڈئر امتیاز نے واضح کیا کہ وہ اور رحمان ملک اس وقت کی سیاسی حکومت کے دور میں اکثر افغانستان جاتے رہے تھے۔’ لیکن وہ( رحمان ملک اور نصیر اللہ بابر) امریکی ایماء پر، اس کے علم میں ہوتے ہوئے اور ان کی رضامندی سے جاتے رہے۔ میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ شاید ہدایات لے کر وہاں جاتے ہوں تاکہ وہاں کیا کیا اہداف یا ہدایات دینی ہیں۔ وہ امریکی ایماء پر ہی ایسا کر رہے تھے‘۔

وہ( رحمان ملک اور نصیر اللہ بابر) امریکی ایماء پر، اس کے علم میں ہوتے ہوئے اور ان کی رضامندی سے جاتے رہے۔ میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ شاید ہدایات لے کر وہاں جاتے ہوں تاکہ وہاں کیا کیا اہداف یا ہدایات دینی ہیں۔ وہ امریکی ایماء پر ہی ایسا کر رہے تھے۔

بریگیڈئر امتیاز

جب بریگیڈئر امتیاز سے دریافت کیا گیا کہ آیا یہ سب کچھ ان کی ذاتی رائے تھی یا خفیہ اداروں کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت خفیہ ادارے میں تھے ان کے پاس معلومات بھی تھیں اور ’کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو خود بولتی ہیں۔ لیکن جو کچھ میں کہہ رہا ہوں میں مطمئن ہوں کہ وثوق سے بول رہا ہوں‘۔

بریگیڈئر امتیاز کے مطابق امریکہ طالبان کو حکومت کا موقع دے کر انہیں نااہل ثابت کروانا چاہتا تھا۔ ’ان کو معلوم تھا کہ طالبان کا سخت گیر رویہ کسی کو قابل قبول نہیں ہوگا۔ وہ بہت زیادہ انتہا پسند اور غیرفطری سوچ کے حامل تھے۔ وہ حکومت زیادہ دن نہیں چلاسکیں گے‘۔

لیکن ایک سوال کے جواب میں کہ وہ اس وقت بھی تو حامد کرزئی جیسی کسی شخصیت کو افغانستان لا سکتے تھے، بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ امریکہ نے جنیوا معاہدے کے بعد اس خطے پر مسلط ہونے کا منصوبہ تیار کر لیا تھا جس میں حامد کرزئی ان کے ’ٹروجن ہارس‘ تھے۔ ’ اگر انہیں ابتداء میں لایا جاتا تو شاید وہ زیادہ دیر نہ چل پاتے‘۔

اس مبینہ امریکی منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ سات مجاہدین جماعتوں کے اتحاد کو ناکام بھی پہلے امریکہ نے کروایا اور پھر طالبان کی شکل میں پیادہ جگجوؤں کو بھی انہوں نے فیل کروایا تاکہ اپنے منصوبوں کو کامیاب کرسکیں۔ ’ان دونوں کی موجودگی میں حامد کرزئی تو کچھ نہیں کرسکتے تھے‘۔

’حامد کرزئی کے سی آئی اے کے ڈائریکٹر ویلیم کیسی کے ساتھ تعلقات تھے اور اب بھی ہیں۔ حامد کرزئی کے بھائی کے بھی جارج بش سے قریبی تعلقات ہیں۔ یہ ٹروجن ہارس موجود تھا صرف اسے لانے کا مناسب وقت چاہیے تھا۔ حامد کرزئی نے شملہ میں چار سال تعلیم حاصل کی۔ آج افغانستان میں جتنے بڑے تعمیر نو کے منصوبے ہیں وہ بھارت کے پاس ہیں۔ ان منصوبوں پر تقریبا چار سو انجینئر کام کر رہے ہیں جن کی حفاظت کے لیے ساڑھے چار ہزار بھارتی تعینات ہیں۔ میرا یقین ہے کہ ان میں سے آدھی فورس را آپریٹ کر رہی ہے‘۔

بریگیڈئر امتیاز نے انکشاف کیا کہ جب وہ آئی ایس آئی میں تعینات تھے اور جنرل مشرف جی ایچ کیو کی ایم ایس برانچ میں تھے تو انہوں (امتیاز) نے ہرے پال پوائنٹ پین کے ساتھ صدر مشرف کے بارے میں ایک مشاہدہ ریکارڈ کیا تھا کہ وہ ’ہائیلی انٹرو ورٹ اینڈ ڈینجرسلی ایمبیشئس شخص ہیں جو اعلی عہدوں پر فائز ہونے کے لیے شاید مناسب نہیں ہیں‘۔

آخر امریکہ کا مقصد کیا ہے اس خطے میں؟ اس بارے میں بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان پر مکمل قبضہ اور بھارت کو علاقائی طاقت بنا کر پاکستان کی اہمیت ختم کرنا چاہتا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے اس ملک کو ایک اعلی صلاحیت کی حامل قیادت کی ضرورت ہے۔

کیا موجودہ خفیہ اداروں کے پاس اس مبینہ امریکی منصوبے کو ناکام بنانے کی صلاحیت موجود ہے؟ جواب میں ان کا الزام تھا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے تمام اداروں کو نقصان پہنچایا جن میں وہ بھی شامل تھے جو ملکی سلامتی کے ذمہ دار تھے۔ ’انہوں نے بڑے ننگے انداز سے خفیہ اداروں کی پیش ورانہ تربیت اور جذبہ تھا اسے دوسری جانب موڑ دیا۔ انہوں نے ان کا فیلڈ کمپیٹنس معیار تھا اس کو بری طرح نقصان پہنچایا‘۔

یاد رہے کہ بریگیڈئر امتیاز کو بھی سابق صدر مشرف نے گرفتار کر کے بدعنوانی کے الزام میں کئی برس تک قید رکھا تھا جبکہ بعد میں عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔

بریگیڈئر امتیاز نے کہا کہ ’اس وقت پاکستانی خفیہ ایجنسیاں ’ہینڈی کیپڈ‘ (معذور) ہیں‘۔ ان کے مطابق اندرونی اور بیرونی چیلنج کئی گنا بڑھ گئے ہیں اور موجودہ ایجنسیاں ان سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

موجودہ لاٹ کو تو اسامہ اور بیت اللہ کی خصوصیات کا بھی علم نہیں ہوگا۔ یہ بھی را اور امریکی گیم پلان ہے۔ امریکہ کو نائن الیون کے چار طیاروں کے ہائی جیک ہونے کا تو علم نہیں ہوا تاہم آج امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے مطابق یہ معلوم ہوگیا کہ اس حملے میں ملوث لوگ پاکستان میں ہیں۔

بریگیڈئر امتیاز

ان سے کشمیر میں جہادی تنظیموں پر صدر مشرف کی جانب سے پابندی کے بارے میں دریافت کیا تو ان کا جواب تھا کہ ’صدر صاحب کہتے کچھ تھے اور کرتے کچھ‘۔

بریگیڈئر امتیاز نے انکشاف کیا کہ جب وہ آئی ایس آئی میں تعینات تھے اور جنرل مشرف جی ایچ کیو کی ایم ایس برانچ میں تھے تو انہوں (امتیاز) نے ہرے پال پوائنٹ پین کے ساتھ صدر مشرف کے بارے میں ایک مشاہدہ ریکارڈ کیا تھا کہ وہ ’ہائیلی انٹرو ورٹ اینڈ ڈینجرسلی ایمبیشئس شخص ہیں جو اعلی عہدوں پر فائز ہونے کے لیے شاید مناسب نہیں ہیں‘۔

انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ ملکی کے سکیورٹی ادارے یا خفیہ ادارے شدت پسندوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان جہاد کے خاتمے کے ساتھ اس وقت خفیہ اداروں کے اہلکار ریٹائر ہوچکے ہیں اور اب سب نئی قیادت ہے۔’موجودہ لاٹ کو تو اسامہ اور بیت اللہ کی خصوصیات کا بھی علم نہیں ہوگا۔ یہ بھی را اور امریکی گیم پلان ہے۔ امریکہ کو نائن الیون کے چار طیاروں کے ہائی جیک ہونے کا تو علم نہیں ہوا تاہم آج امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے مطابق یہ معلوم ہوگیا کہ اس حملے میں ملوث لوگ پاکستان میں ہیں‘۔

روسیوں کے خلاف افغانستان میں جنگ کے فیصلے کے بارے میں بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت سکیورٹی اداروں کا جنرل ضیاء کی قیادت میں مشترکہ فیصلہ تھا۔’روس میں کہوں گا پاکستان کا دشمن تھا۔ وہ بھارت کو علاقائی طاقت کے طور پر استوار کرنا چاہتا تھا‘۔

دریافت کیا کہ اب یہ کام تو امریکہ یہاں کر رہا ہے تو فائدہ کیا ہوا؟ بریگیڈئر امتیاز کا ماننا تھا کہ یہ درست ہے۔ ’اس وقت کے حالات میں وہ پالیسی درست تھی تاہم موجودہ حالات کو دیکھ نہیں سکی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکی گیم پلان کو وہ اس وقت نہیں سمجھ سکے‘

.
....

’بینظیر کی پالیسیوں پر سکیورٹی اداروں کو خدشات تھے‘

کلِک

کلِکانٹرویو کا دوسرا حصہ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

بریگیڈئر (ر) امتیاز احمد پاکستان کی تاریخ کے پندرہ اہم برسوں تک خفیہ اداروں آئی بی اور آئی ایس آئی میں اہم عہدوں پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ انیس سو نوے میں ریٹائر ہوئے تھے تاہم انہیں وقتا فوقتاً سیاست میں مداخلت یا بدعنوانی کے الزامات کے تحت بےنظیر بھٹو اور صدر مشرف کے ادوار میں آٹھ برس تک قید بھی جھیلنا پڑی۔ ان پر بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خاتمے کے لیے ’آپریشن مڈنائٹ جیکل‘ میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔

اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انیس برس کی طویل خاموشی توڑتے ہوئے انہوں نے بی بی سی اردو سروس کو ایک خصوصی انٹرویو دیا جسے دو اقساط میں پیش کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز شائع ہونے والی پہلی قسط افغانستان، طالبان اور شدت پسندی سے متعلق تھی جبکہ اس دوسری اور آخری قسط میں بریگیڈئر امتیاز ’آپریشن مڈنائٹ جیکال‘ میں اپنے کردار پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

بریگیڈئر(ر) امتیاز

بریگیڈئر(ر) امتیاز بی بی سی اردو کے ہارون رشید کو انٹرویو دیتے ہوئے

انیس سو نواسی میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے خاتمے کی ایک مبینہ سازش کے کلیدی کردار سمجھے جانے والے بریگیڈئر (ریٹائرڈ) امتیاز احمد کہتے ہیں کہ وہ ’مڈنائٹ جیکل‘ نہیں بلکہ ’ڈے لائٹ ٹائیگر‘ ہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں میں پندرہ اہم برسوں کے دوران فرائض انجام دینے والے بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ سیاسی حکومت کے خلاف سازش پاکستانی خفیہ اداروں کی نہیں بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور دو پاکستانیوں نے تیار کی تھی۔

’اس سازش کے کلیدی کردار ملٹری انجینرنگ سروس کے ایک سابق افسر اور وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری ایک سابق فوجی تھے۔ ان کا مقصد پاکستانی سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا تھا۔‘

حکمراں جماعت کے نمائندوں کی حمایت خریدنے کی اس مبینہ سازش کو ایک واقعہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا صرف اتنا قصور تھا کہ انہوں نے اپنی فوج کی اعلی قیادت پر اندھا اعتماد کیا۔ ’میں اگر قصور وار تھا تو مجھ پر چار سال بعد بغاوت کا مقدمہ کیوں درج کیا گیا؟ میرے خلاف کورٹ مارشل کیوں نہیں ہوا؟‘

جب یہ سازش سامنے آئی تو اس وقت جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل حمید گل کو واضح موقف کے ساتھ سامنے آنا چاہیے تھا۔ انہیں فوج کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جونیئرز کے ساتھ وفاداری کا بھی ثبوت دیتے۔ لیکن انہوں نے سیاسی مصلحت یا دباؤ میں آکر ایسا نہیں کیا جس کی قیمت میں اور میرے بیوی بچوں نے ادا کی۔

بریگیڈئر امتیاز

ان کے مبینہ ملوث ہونے کے بارے میں سامنے آنے والی آڈیو ٹیپ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ جعلی تھی۔ ’وہ کسی اور کی آواز تھی۔ اس کا ٹرانسکرپٹ تیار کرنے والے بھی سازش میں شامل تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب یہ سازش سامنے آئی تو اس وقت جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل حمید گل کو واضح موقف کے ساتھ سامنے آنا چاہیے تھا۔ ’انہیں فوج کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جونیئرز کے ساتھ وفاداری کا بھی ثبوت دیتے۔ لیکن انہوں نے سیاسی مصلحت یا دباؤ میں آکر ایسا نہیں کیا جس کی قیمت میں اور میرے بیوی بچوں نے ادا کی۔‘

بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ ملٹری انجینرنگ سروس کے سابق افسر بعد میں واپس ملک آئے۔ انہیں سرسری سزا دی گئی اور ایک ہفتے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ ’یہ سیاسی و فوجی قیادت کی باہمی رضا سے ہوا۔ پھر اس شخص کو ایف آئی اے میں تعینات کیا جاتا ہے اور میرا کیس اسی کو دیا جاتا ہے۔ تاہم اب یہ دونوں شخصیات گمنام زندگی گزار رہے ہیں۔‘

سابق سپائے ماسٹر کا کہنا تھا کہ کسی کو محب وطن یا غدار خفیہ ایجنسیاں قرار نہیں دیتیں۔ ’میرے وقت میں ایسے غلط فیصلے ہوئے ملک کے مفاد کے خلاف ہوئے۔ یہ فیصلہ طاقت کی تکون نے سیاسی مصلحتوں اور اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے کیے۔ میں نے تاہم ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھا۔‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ بےنظیر بھٹو کی افغانستان پالیسی، جوہری پروگراماور فوج کو اپنی گرفت میں رکھنے کی خواہش پر سکیورٹی اداروں کو خدشات تھے۔ ’اس بابت ہمارے پاس انٹیلیجنس بھی موجود تھی۔ ان کے اندرون اور بیرون ملک بیانات میں تضاد تھا۔‘

بینظیر بھٹو کی افغانستان پالیسی، جوہری پروگرام اور فوج کو اپنی گرفت میں رکھنے کی خواہش پر سکیورٹی اداروں کو خدشات تھے۔ اس بابت ہمارے پاس انٹیلیجنس بھی موجود تھی۔ ان کے اندرون اور بیرون ملک بیانات میں تضاد تھا۔

بریگیڈئر امتیاز

انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ وہ پیپلز پارٹی مخالف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ سندھ میں تعینات تھے تو یہی وہ وقت تھا جب پیپلز پارٹی کے بعض عناصر نے بغاوت شروع کی۔ ’اس میں را، خاد اور دیگر ممالک کی ایجنسیاں شامل ہوگئیں۔ میری ڈیوٹی تھی کہ اس دہشت گردی کو روکوں۔ اسی لیے شاید یہ تاثر قائم ہوا۔‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ عام لوگوں اور انٹیلجنس ایجنسیوں کی رائے میں فرق ہوتا ہے۔ ’خفیہ اداروں کے پاس جو معلومات ہوتی ہیں وہ ان کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں لیکن عوام کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہوتیں۔‘

ان کا دعوی تھا کہ سابق صدر مشرف نے انہیں بےنظیر بھٹو اور نواز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار پر آٹھ ماہ تک اڈیالہ جیل میں قید تنہائی میں رکھا

...

Kushnood Ali writes about this begh**t brigadier billa
http://www.dailyjinnah.com/?p=24227

(۱) بریگیڈئیر امتیاز احمد 31 مارچ 1990ء سے 25 اپریل 1993ء تک انٹیلی جنس بیورو میں تعینات رہے اور اس دوران انہوں نے بے پایاں ناجائز دولت اکٹھی کی‘ کرپشن اور ناجائز دولت اکٹھی کرنے کے حوالے سے ان کے خلاف دو مقدمات درج ہوئے پہلا مقدمہ ایف آئی اے نے مورخہ 21 اکتوبر 1994ء میں بذریعہ FIR No. 10/94 بے نظیر بھٹو حکومت کے دوسرے دور میں درج کیا لیکن 1996ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے بعد بریگیڈئیر امتیاز احمد نے اثر و رسوخ استعمال کیا اور ایف آئی اے نے اس مقدمہ کی پیروی میں دلچسپی نہ لی لہٰذا بریگیڈئیر امتیاز احمد نے ہائی کورٹ میں رٹ کے ذریعے 4 جولائی 1997ء میں اس مقدمہ سے بری الذمہ قرار پائے ۔ اس موقع پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت میں شامل سابق وزیر داخلہ نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے متعلقہ جج‘ جسٹس ممتاز علی مرزا کے نام ایک خط کے ذریعے بریگیڈئیر امتیاز احمد کی جائیداد کیس میں یہ کہتے ہوئے فریق بننے کی درخواست کی کہ آئی بی کے سابق سربراہ کے خلاف ایف آئی اے نے ملک بھر میں 27 قیمتی جائیدادیں اور برکلے بنک لندن میں ان کی بڑی رقم کے بارے میں دستاویزات جمع کی تھیں جنہیں ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش کیا جانا تھا تاہم پیپلز پارٹی کی حکومت کی برطرفی کے باعث ایف آئی اے نے مقدمہ کی اچھے پیرائے میں پیروی نہیں کی لہٰذا وہ یہ دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے لیکن مقدمہ خارج ہو جانے کے باعث اس درخواست پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
(۲) بریگیڈئیر امتیاز احمد کے خلاف ناجائز دولت اکٹھی کرنے کا دوسرا مقدمہ چیئرمین اکاؤنٹ ایبیلٹی بیورو کی جانب سے سیکشن 10 کے تحت بذریعہ ریفرنس نمبر 21/2000 اکاؤنٹ ایبلٹی کورٹ کے جج جناب سید سخی حسین بخاری کی عدالت میں دائر ہوا اس عدالت میں چیئرمین اکاؤنٹ ایبلٹی بیورو کی جانب سے یہ وضاحت کر دی گئی تھی کہ اس مقدمہ میں ایف آئی اے کے مقدمہ میں ظاہر کی گئی جائیدادوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے جن جائیدادوں کے پیش نظر اکاؤنٹ ایبلٹی کورٹ نے کرپشن کا مرتکب ہونے پر بریگیڈئیر امتیاز احمد کو سزا دی ان میں مندرجہ ذیل جائیدادیں شامل تھیں:
(۱)۔ فارن ایکسچینج بئیرر سرٹیفکیٹ جن کی ویلیو 20.8 ملین تھی
(۲) یونٹ نمبر9 I-S, پلازہ ایف ٹین مرکز اسلام آباد
(۳) یونٹ نمبر 8 I-S, ایف ٹین مرکز اسلام آباد
(۴) یونٹ نمبر 2 I-S, پلازہ ایف ٹین مرکز اسلام آباد
(۵) ہاؤس نمبر 286 ایف ٹین فور اسلام آباد
(۶) ہاؤس نمبر 7 ایف سیون ٹو اسلام آباد
(۷) ہاؤس نمبر 6 نائنتھ ایونیو ایف ایٹ ٹو اسلام آباد
عدالت نے مندرجہ بالا جائیدادوں اور بینکوں کے ذریعے شواہد و ضوابط کی خلاف ورزیوں اور عدالت کے سامنے پیش کی گئی شہادتوں کی بنیاد پر کرپشن کے الزامات ثابت ہونے کے بعد مورخہ 31-07-2001ء کو بریگیڈئیر امتیاز احمد کے تمام بیان کردہ اثاثے بحق سرکار ضبط کرنے کے علاوہ 8 سال قید بامشقت ستر لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ۔ عدالت نے مندرجہ بالا سزا کے علاوہ بریگیڈئیر امتیاز احمد وغیرہ کو سنائی جانے والی سزا کے پورا ہونے کے بعد مزید دس سال کے لئے کسی بھی پبلک آفس‘ Statutory یا لوکل اتھارٹی کے منصب کے لئے نااہل قرار دیا لیکن حیرت ہے کہ قوم کی دولت لوٹنے اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے مجرم قرار دینے کے باوجود اس مرتبہ بریگیڈئیر امتیاز احمد جنرل مشرف کے جاری ہونے والے NRO کے تحت کرپشن کے تحت کمائی ہوئی ناجائز قومی دولت کو پھر سے واگذار کرانے میں کیونکر کامیاب ہوا جبکہ NRO جاری کرتے وقت یہ کہا گیا تھا کہ NRO کے تحت ایسے ملزموں کو چھوٹ نہیں دی جائے گی جن کے خلاف الزامات ثابت ہوگئے ہوں ۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فوج سے ریٹائرمنٹ ایٹ فالٹ سے قبل 1988ء میں بریگیڈئیر امتیاز احمد نے جی ایچ کیو میں جائیداد کے جو گوشوارے جمع کرائے تھے ان میں لاہور کینٹ آفیسرز کالونی فیز ٹو میں دو کنال کا ایک پلاٹ اور ڈیفنس ہاؤسنگ کالونی کراچی فیز ایٹ میں دو ہزار گز کا ایک پلاٹ شامل تھا ۔ اس جائیداد کے علاوہ ان کی کوئی جائیداد نہیں تھی کیونکہ آئی بی کے ایک سینئر آفیسر (محمد یونس) نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے سرکاری طور پر اس امر کی وضاحت کی تھی کہ آئی بی میں قواعد کے مطابق بریگیڈئیر امتیاز احمد نے نہ تو جائیداد کا کوئی گوشوارہ جمع کرایا تھا اور نہ ہی جائیداد کی خرید و فروخت کے لئے متعلقہ اتھارٹی سے کبھی اجازت لی تھی لہٰذا عدالت عالیہ اور حکومت سے مودبانہ درخواست کرتا ہوںکہ قومی دولت لوٹنے والے بریگیڈئیر امتیاز احمد کے کیسوں کو فوری طور پر ری اوپن کیا جائے کیونکہ ٹرائل کورٹس نے جولائی 2001ء میں انہیں سزا سنا کر جیل بھیج دیا تھا جبکہ دیگر کیس جسے عدم پیروی کی بناء پر خارج کیا گیا ہے کو بھی ری اوپن کیا جائے تاکہ قومی دولت کو واپس قومی خزانے میں جمع کرایا جائے


..
Finally, who is dirtier than the other? Ansar Abbasi or Brigadier Imtiaz? Both are subservients to the interests of intelligence agencies, supporters of General Zia-ul-Haq, and enemies of democratic forces in Pakistan. Har do lanat:

Who is behind the ‘get Nawaz’ campaign?

Wednesday, August 26, 2009

By Ansar Abbasi

ISLAMABAD: The fact that Nawaz Sharif was once the establishment’s blue-eyed boy and that the creation of the IJI was the ISI’s work are well known and undeniable, but the general perception is that today he is being targeted to save Musharraf’s skin.

It is premature to say who is behind this ‘get Nawaz’ campaign to deter him from seeking Musharraf’s trial under Article 6 of the Constitution. Though the immediate suspect for many is the invisible, military-led establishment, there are indications of involvement of some key government players in this blame-game.

Brigadier (retd) Imtiaz, whose recent statements have created ripples and upset the PML-N and its chief, however, denied that he has been playing into the hands of the establishment or the government. He insists that he just had the urge to share with the nation past secrets, irrespective of who benefits and who is damaged politically because of his revelations.

Talking to this correspondent, Brig Imtiaz said that he is not part of any plan to save Musharraf from trial. “Instead, I am a strong advocate of holding Musharraf accountable for his crimes against Pakistan,” the former ISI spy of ‘midnight jackals’ fame and ex-director general of the Intelligence Bureau said.

Regarding the ‘midnight jackal’ operation, which was meant to manoeuvre a no-confidence against the Benazir Bhutto government, he said that he was once called by the then Army chief General Aslam Beg, who desired in-house change of the government arguing that the Army was facing problems from the government vis-a-vis the country’s nuclear programme and the Afghan policy.

But the PML-N leader and party’s spokesman Pervez Rashid is confident that Brigadier Imtiaz is playing someone’s dirty game. Rashid said that Brig Imtiaz’s interviews and MQM Altaf Hussain’s statements are part of the strategy to malign Nawaz Sharif and prevent him from pursuing Musharraf’s trial.

He said that there are many elements who fear that if Musharraf is tried for his unconstitutional actions, then they too would face the music for their part in the misdoings. So they have launched this anti-Nawaz campaign. He, however, expressed the resolve of his party to continue pressing for upholding the rule of law for which Musharraf’s trial is necesary.

Imtiaz claims that he still has liking for Nawaz Sharif but it is not possible for him to withhold the truth anymore. He denied that he had approached different television channels for interview. He also denied that he has recently met Rehman Malik, the interior minister.

But Dr Shahid Masood of Geo’s ‘Meray Mutabik’ told this correspondent that the Brigadier approached him for an appearance in his programme. Pervez Rashid endorsed Dr Shahid Masood’s view and said that Brigadier Imtiaz contacted different television channels, which in his view is a clear indication of a well thought out strategy to malign the PML-N top leader.

Meanwhile, a London-based source confided to this correspondent that a key Pakistani diplomat from Washington recently visited London to meet Musharraf. It is believed that certain players in the government are in close liaison with the ousted dictator and want to defeat the bid to try Musharraf on high treason charges.

The source said that a British national of Pakistani origin, who runs spices business in London, is financing pro-Musharraf campaign and is even organising Musharraf’s meetings with different media persons to oppose the demand for his trial. Recently he organised Musharraf’s meeting with some pro-Musharraf media anchorpersons at the residence of a Pakistani dentist there. (The News)



saleembutt said: (source: pkpolitics)

Nawaz Sharif claims being uninformed about :

What happend to the Supreme Court of Pakistan on November 27, 1997 ! (Nawaz Sharif does not know who’s responsible to protect the sanctity of the highest court in the land !)

Nawaz Sharif does not know what is ‘contempt of court’ !

Under what circumstances the then Chief Justice of Pakistan Syed Sajjad Ali Shah was attacked by the mobs organized by Nawaz League !

What treatment was meted out to journalists Sethi & Haqqani & The Jang Group !

The whole country has heard the conversation between Nawaz Sharif’s NAB Chairman (his best buddy and side kick – Saif Ur Rehman Piracha) and Mir Jameel ur Rehman – recorded & released by Mir Jameelur rehman !

Nawaz Sharif’s Law Minister Khalid Anwer communicates desires of the rulers to the Judge of the High Court Malik Qayum about the concocted criminal cases against Benazir Bhutto & her husband Asif Ali Zardari – the whole communication was recorded and released and everyone and his cousin heard it but – Nawaz Sharif doesn’t know it !

Of course!!! Prime Minister Nawaz Sharif did not know anything about Kargil – no he doesn’t know nothing about who paid millions of Sterling Pounds on his behalf in London to save his luxury appartments near Marble Arch when a British Court passed a judgement against his group in a loan default case !

Nawaz doesn’t know who paid for his palace construction in Saudi Arabia or the Raiwind Complex (the future capital of the Independent Dutchy of the Central Punjab ! )

And the list goes on and on and on ad- infinitum!

And now he has been declared as innocent as a ’stuffed rabbit’ – Supreme Court think so!

And I say let him be as innocent and as ignorant as he wishes to pretend but I ask you all here – why should we let a nincompoop like Nawaz Sharif play havoc with our destiny yet another time? What makes you think that this incompetent man has suddenly become so excptionally qualified that you can’t find out of 180 millions of us?

Also read:




No comments:

Post a Comment

1. You are very welcome to comment, more so if you do not agree with the opinion expressed through this post.

2. If you wish to hide your identity, post with a pseudonym but don't select the 'anonymous' option.

3. Copying the text of your comment may save you the trouble of re-writing if there is an error in posting.