Editor's Choice

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Featured Post
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

"Let us build Pakistan" has moved.
30 November 2009

All archives and posts have been transferred to the new location, which is: http://criticalppp.com

We encourage you to visit our new site. Please don't leave your comments here because this site is obsolete. You may also like to update your RSS feeds or Google Friend Connect (Follow the Blog) to the new location. Thank you.


--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Showing posts with label Wusatullah Khan. Show all posts
Showing posts with label Wusatullah Khan. Show all posts

Friday, 30 October 2009

An analysis of Takfiri thought and actions in Pakistan

Wusatullah Khan of BBC Urdu offers an analysis of the Takfiri (Khariji ) thought and actions in Pakistan.

Some renowned (notorious) Takfiris (Kharijis) include (some of them are hidden Takfiris):

Ayman-al-Zawahiri
Osama Bin Laden
Mullah Omar
Qazi Hussain Ahmed
Munawar Hassan
Imran Khan
Dr Shahid Masood
Irfan Siddiqi
Javed Chaudhry
Hafiz Saeed Ahmed
General Hamid Gul
General Aslam Beg
Fazl-ur-Rehman
Sami-ul-Haq
Shirin Mazari
Ansar Abbasi

ایک سو تیرہ جائز ہلاکتیں!

اصناف: ,

وسعت اللہ خان | 2009-10-29 ،16:38

تکفیر کی اصطلاح کفر سے نکلی ہے۔ تکفیری ایسے شخص کو کہتے ہیں جو دیگر مسلمانوں کو عقیدے کی کمزوری یا خرابی کے سبب کافر یا مرتد سمجھے اور ایسے مسلمانوں کے قتل کو جائز جانے۔

کسی بھی مسلمان کو مرتد یا کافر قرار دینے کا ایک شرعی طریقہ کار ہے جس کی روشنی میں صاحبِ علم اور مجاز علما ہی کسی کے عقیدے کا فیصلہ کرنے کے اہل ہیں۔ لیکن بہت سے گروہ جن میں سے غالب اکثریت سلفی نظریے سے متاثر ہے خود کو اس کا اہل گردانتے ہیں کہ وہ کسی فرد یا گروہ کے ایمان کے بارے میں فیصلہ دے سکیں۔ یہ وہ گروہ ہیں جو سلفی نظریے کی مذید انتہا پسندانہ شکل کے نمائندے ہیں۔ ان کے نزدیک جو شخص یا گروہ یا مسلمان حکومت اسلام کے بارے میں ان کی تشریح سے متفق نہیں وہ ایک خالص اسلامی معاشرے کے قیام کی راہ میں اپنی بدعقیدگی کے سبب ایک رکاوٹ ہے جسے ہٹانے کے لیے تشدد سمیت کوئی بھی طریقہ جائز اور شرعی ہے۔

تاریخ میں اس سے ملتا جلتا نظریہ خارجی فرقے کے ہاں ملتا ہے۔ اور تکفیری عقیدے کی جدید شکل طالبان، القاعدہ، مصر اور الجزائر میں متحرک جماع الاسلامیہ جیسے شدت پسند گروہ سمجھے جاتے ہیں۔

اسامہ بن لادن کا ذاتی نظریہ یہ ہے کہ نتیجہ اہم ہے اس تک پہنچنے کے لیے کوئی بھی راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ بقول ان کے'ضروری نہیں ہے کہ جو بھی اس جہاد کا حصہ بنے وہ اسلامی اصولوں پر اپنی ذات کی حد تک پوری طرح سے عمل پیرا ہو۔ اسکی نیت زیادہ اہم ہے۔'

جب امریکی ٹائم میگزین نے مصر کی شدت پسند تنظیم جماع الاسلامیہ کے فکری قائد شیخ عمر عبدالرحمان سے انٹرویو میں پوچھا کہ جو عام شہری کار بم کے دھماکوں میں بے گناہ مارے جاتے ہیں ان کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ شیخ عمر کا جواب تھا کہ اگر یہ ایکشن دورانِ جنگ لیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں عام لوگ مارے جاتے ہیں تو یہ تشدد کے بدلے تشدد کا عمل ہے اور اس کی ذمہ داری تشدد کا جواب دینے والے پر عائد نہیں کی جاسکتی۔

تکفیری اسے بھی جائز سمجھتے ہیں کہ اگر دشمنوں کو مارنے کے لیے ایک شخص جان بوجھ کر خود کو ہلاک کرتا ہے تو وہ شہید ہے۔

ڈاکٹر ایمن الزواہری تکفیری سوچ کا ایک سرکردہ نشان ہیں۔ جب وہ سن اسی کے عشرے میں صدر انور سادات کے قتل کے بعد قاہرہ کی جیل میں تھے تو ان کے بقول وہ لوگ جو ایک فاسق و فاجر حکومت کے ہوتے ہوئے چپ رہتے ہیں یا مزاحمتی اسلامی قوتوں کی مدد نہیں کرتے تو وہ بھی فاسق و فاجر حکومت کے مددگار اور واجب القتل ہیں۔ اسی دور میں قاہرہ میں دھماکوں کی ایک مختصر لہر بھی آئی جس میں عام شہریوں کے ساتھ غیر ملکی سیاح بھی ہلاک ہوئے۔

پشاور میں ایک سو تیرہ عورتوں، بچوں اور عام مردوں کی ہلاکت آپ کے نزدیک درندگی ہو، لیکن تکفیری نظریے کی روشنی میں ان کی ہلاکت ایک شرعی اور جائز عمل ہے۔۔

http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/10/post_524.html
Read more...

Sunday, 4 October 2009

Kerry-Luger Bill or Carry-Looter Bill? Fact versus Fiction

Wusatullah Khan's critique on "intellectuals" such as Kashif Abbasi, Irfan Siddiqi and Dr Shahid Masood:

چوبیس روپے کی دانشوری

کیری لوگر

آب اعتراض کرنے والوں نے منظوری سے قبل کیری لوگر بل کا مسودہ حاصل کر کے اسے پڑھنے کی کوشش نہیں کی

آپ کبھی اپنے کسی عزیز یا دوست سے کہیں ’بھائی صاحب ایک لاکھ روپیہ فوری طور پر چاہیں۔ چھ ماہ کے دوران چھ قسطوں میں لوٹا دوں گا‘۔ پہلا سوال ہوگا ’خیریت تو ہے ایسی بھی کیا ایمرجنسی آن پڑی؟‘ یہ سوال کرتے ہوئے دل ہی دل میں آپ کا دوست یہ بھی سوچ رہا ہوگا کہ سال بھر پہلے جو دس ہزار روپے آپ کو دیے تھے وہ یاد دلاؤں کہ نہ دلاؤں۔ چنانچہ قوی امکان ہے کہ آپ کا عزیز دوست یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کرے کہ اگر کہیں اور سے پیسوں کا انتظام ہوجائے تو دیکھ لو۔آج کل ہاتھ ذرا تنگ ہے اور کہیں سے بھی نہ ملے تو پھر کچھ نہ کچھ تو تمہارے لیے کرنا ہی پڑے گا۔

آپ کسی بھی بینکر کے پاس جائیں اور کہیں پچاس لاکھ روپے چاہیں گھر بنانا ہے۔ پہلا سوال ہوگا۔ پلاٹ کے کاغذات کہاں ہیں؟۔ دوسرا سوال ہوگا ماہانہ آمدنی کتنی ہے؟ پھر پوچھا جائےگا بچے کتنے ہیں؟ ان کی عمر کیا ہے؟ زیرِتعلیم کتنے ہیں؟ آپ کے بینک اکاؤنٹس کی تعداد کیا ہے اور کن کن بینکوں میں ہیں؟ آپ کے پاس کریڈٹ کارڈز کون کون سے ہیں؟ پچھلے چھ ماہ کے بینک سٹیٹ مینٹس کہاں ہیں؟ کیا پہلے کسی بینک سے قرضہ تو نہیں لیا؟ کتنے عرصے کے لیے قرضہ چاہیے؟ ضمانتی کون کون ہیں؟ کتنی قسطوں میں اور کتنے برس میں واپسی ہوگی؟ قرضے کی انشورنس کس کمپنی سے کروائیں گے ؟

اگر آپ کا عزیز دوست محض ایک لاکھ روپے کا غیر مشروط قرضہ دینے سے ہچکچا رہا ہو اور پچاس لاکھ دینے سے پہلے بینک آپ کی مالیاتی اوقات کے بارے میں اس قدر چھان بین کررہا ہو اور طرح طرح کی دستاویزات اور ضمانتیں طلب کررہا ہو تو سوچیے جو ملک آپ کو ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ دینا چاہتا ہے وہ کیا کیا ضمانتیں طلب نہ کرے گا اور کیوں طلب نہ کرے گا؟

جب کیری لوگر بل پچھلے کئی ماہ سے کانگریس کے زیرِ غور تھا تو ہر آتے جاتے امریکی اہلکار سے بہانے بہانے پوچھا جاتا تھا کہ کتنی دیر اور لگے گی؟ اس دوران کسی ٹی وی اینکر پرسن یا تجزیہ باز کو توفیق نہ ہوئی کہ مباحثے کا دنگل سجانے سے پہلے انٹرنیٹ پر دس ڈالر ادا کرکے اس بل کا مسودہ منگوا کر شق وار پڑھ ہی لیتا۔ اب بل منظور ہوگیا تو اسکی شرائط پر غل مچایا جا رہا ہے اور سب سے زیادہ غوغا پندرہ روپے کا انگریزی اور نو روپے کا اردو اخبار پڑھ کر رائے قائم کرنے والا چوبیس روپے کا دانشور کر رہا ہے۔

اگر آپ کو ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر سالانہ کے ساتھ نتھی شرائط اتنی ہی ناگوار گذر رہی ہیں تو انکار کردیں۔ کوئی اور دروازہ کھٹکھٹا لیں، صبر کے گھونٹ پی لیں یا پیٹ پر پتھر ہی باندھ لیں

چین تو آپ کا یار ہے نا! ذرا اس سے سو ملین ڈالر غیر مشروط طور پر لے کر دکھا دیں۔ سعودی عرب تو برادر ملک ہے نا! ذرا اسی سے تین ماہ سے زائد کے کریڈٹ پر تیل لے کر بتا دیں۔ اگر آپ کو ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر سالانہ کے ساتھ نتھی شرائط اتنی ہی ناگوار گذر رہی ہیں تو انکار کردیں۔ کوئی اور دروازہ کھٹکھٹا لیں، صبر کے گھونٹ پی لیں یا پیٹ پر پتھر ہی باندھ لیں۔

لیکن ڈیڑھ ارب ڈالر دینے والے اور صرف وعدہ، تسلی کرنے والے سب جانتے ہیں کہ اپنا بھاؤ خود لگانا آپ کے بس کی بات نہیں۔ آپ صرف بھاؤ دکھا سکتے ہیں!


Abbas Ather:

Abbas Mehkari:

Tahir Sarwar Mir:
....

کیری لوگر بل: ’ہمارے دشمن بھارت نے بہت لابئنگ کی ‘

’ہمارے دشمن ملک بھارت نے لابی کرنے والوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر خرچ کیے تاکہ پاکستان کے لیے امریکی مدد کا یہ بل منظور نہ ہو لیکن صدر پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے ذریعے ان بھارتی عزائم کو شکست ہوئی‘ قمر زمان کائرہ

وفاقی وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ کیری لوگر بل کے تحت ملنے والے ایک سو بیس ارب ڈالر سالانہ کا بڑا حصہ صوبہ سرحد کی ترقی اور وہاں غربت کے خاتمے کے لیے صرف کیا جائے گا۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں کیری لوگر بل کے بارے میں ایک مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام تاثر کے برعکس حکومت اس بل کے تحت ملنے والی رقم کو بجٹ کی تیاری پر خرچ نہیں کرے گی بلکہ اس رقم کا بڑا حصہ، تقریباً اسی سے ایک سو ارب روپے ہر سال صوبہ سرحد کے شدت پسندی اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں خرچ کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کتنی بڑی رقم ہے اور اس سے اس صوبے میں کتنی بڑی سماجی تبدیلی آ سکتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت صوبہ سرحد کے لیے حکومت زیادہ سے زیادہ دس ارب روپے سال کے خرچ کرتی ہے۔

’جب یہ ترقیاتی رقم آٹھ سے دس گنا بڑھ جائے گی تو آپ خود اندازہ لگائیں کہ وہاں کتنی معاشی اور سماجی ترقی ہو گی اور اس کے نتیجے میں ان علاقوں میں پنپتی شدت پسندی کو ختم کرنے میں بہت مدد ملے گی‘۔

کیری لوگر بل کے ذریعے امریکہ پاکستانی مسلح افواج کے افسران کی ترقی اور اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے عمل کو بھی مانیٹر کر سکے گا۔ یہ ایک غیر ضروری شرط ہے اور اس کا مقصد سول اور فوجی قیادت کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔

مشاہد حسین

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ساری دنیا اب یہ محسوس کرتی ہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کی جڑیں غربت اور بے روز گاری میں ہیں۔ ’ہم اس رقم کو دہشت گردی کی جڑیں کاٹنے میں صرف کریں گے‘۔

سمینار میں شریک حزب اختلاف کی جماعتوں کے نمائندوں کی جانب سے کیری لوگر بل کے ساتھ منسلک شرائط پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ کیری لوگر بل امریکہ میں ہونے والی قانون سازی ہے، پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ معاہدہ نہیں جس پر عمل کرنا پاکستان کے لیے لازمی ہو۔

’ہم امریکی پارلیمنٹ کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے کہ وہ اپنے قانون کیسے بنائے۔ اگر اس میں موجود شرائط ہمیں یا ہماری پارلیمنٹ کو منظور نہیں ہوں گی تو مدد کی اس پیش کش کو مسترد کیا جا سکتا ہے‘۔

قمر زمان کائرہ کے مطابق ان کی حکومت نے سفارتکاری کے ذریعے اس بل میں پرویز مشرف دور حکومت میں شامل کی گئی بعض شرائط نکلوائی ہیں جن میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر تک رسائی کی شرط بھی شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں اب ایک عمومی سی بات کی گئی ہے کہ پاکستان ایٹمی پھیلاؤ کے خاتمے کی کوششوں میں تعاون کرے گا۔

’یہ تعاون تو ہم ہر حال میں کریں گے چاہے مدد ملے یا نہ ملے لیکن ڈاکٹر قدیر تک کسی غیر ملکی کو رسائی دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ بعض ممالک کیری لوگر بل کو منظور ہونے سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے رہے ہیں۔ ’ہمارے دشمن ملک بھارت نے لابی کرنے والوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر خرچ کیے تاکہ پاکستان کے لیے امریکی مدد کا یہ بل منظور نہ ہو لیکن صدر پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے ذریعے ان بھارتی عزائم کو شکست ہوئی‘۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اس بل کے ساتھ منسلک جن شرائط پر اعتراض کیا جا رہا ہے وہ پاکستان کو ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر کی غیر فوجی امداد کے ساتھ نہیں بلکہ اس فوجی امداد کے ساتھ منسلک ہیں جس کا ابھی تعین بھی نہیں ہوا۔

’آپ نے کیسے یہ فرض کر لیا کہ ہم ایسی فوجی امداد کے لیے جو تیس کروڑ ڈالر سے زیادہ نہیں ہو گی ایسی شرائط مان لیں گے جو ملک کے مفاد میں نہ ہوں‘۔کائرہ نے کہا کہ ابھی یہ بل قانون نہیں بنا اور اس میں ابھی تک ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔

کیری لوگر بل میں شامل شرائط کا جائزہ پیش کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل اور خارجہ امور کے لیے سینیٹ کی کمیٹی کے سربراہ مشاہد حسین سید نے کہا کہ اس بل میں بعض ایسی شرائط ہیں جو امریکہ میں بھارتی لابی نے شامل کروائی ہیں جن سے پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

’ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک اور ان کے اداروں کے تعاون سے علاقے میں دہشت گردی اور اس کے اڈے ختم کرنے کے لیے کام کرے گا‘۔

مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ اس شق کی بنیاد پر بھارتی خفیہ ادارہ را پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے بتایا امریکہ پاکستانی مسلح افواج کے افسران کی ترقی اور اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے عمل کو بھی مانیٹر کر سکے گا۔ مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر ضروری شرط ہے اور اس کا مقصد سول اور فوجی قیادت کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔

آپ نے کیسے یہ فرض کر لیا کہ ہم ایسی فوجی امداد کے لیے جو تیس کروڑ ڈالر سے زیادہ نہیں ہو گی ایسی شرائط مان لیں گے جو ملک کے مفاد میں نہ ہوں

قمر زمان کائرہ

امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر طارق فاطمی نے کہا کہ کیری لوگر بل کے ذریعے پاکستان کو اب بھارت میں بھی امن قائم کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے کیونکہ اگر وہاں بھی کوئی دہشت گردی کی واردات ہوئی تو اس کا جواب پاکستان کو دینا ہو گا۔

طارق فاطمی نے کہا کہ اس بل میں شامل بعض شرائط نا قابل عمل ہیں اور بعض ایسی ہیں جو پاکستانی عوام میں امریکہ کے خلاف جذبات ابھارنے کا باعث بنیں گی۔ طارق فاطمی کے بقول کیری لوگر بل پاکستان کے خلاف فرد جرم ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی اور معروف لکھاری ایاز امیر نے کہا کہ اس مسئلے پر ان کے اپنے جذبات بہت زیادہ ہیں اس لیے وہ پارٹی کی ترجمانی نہیں کریں گے بلکہ اپنے ذاتی خیالات بیان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کیری لوگر بل میں شامل شرائط پر بحث اس وجہ سے لاحاصل ہے کیونکہ پاکستانی حکومت اور قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ غیرت اور حمیت سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں یا بھیک مانگنے والوں کی طرح۔

ایاز امیر نے کہا کہ اگر پاکستانی قوم غیرت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو انہیں بنیاد پرستی اور عیش پرستی کو خیرباد کہ کر اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلانا سیکھنا ہو گا اور ایسا کرنے میں نہ کیری لوگر بل کی ضرورت ہے اور نہ وہ اس کے آڑے آتا ہے


....

....

ANALYSIS: Limited options —Dr Hasan-Askari Rizvi

The Pakistani government is not prepared to admit publicly that its precarious economic situation restricts its foreign policy options and increases its dependence on international financial institutions and the US

US-Pakistan relations have passed through many ups and downs. Alternating periods of cooperation and sanctions against Pakistan always evoked debate in both countries, reflecting varying degrees of distrust as well as convergence and divergence on bilateral, regional and global issues.

Given the sharp differences in the positions of the two countries in the global hierarchy, Pakistan’s political circles always found this relationship overwhelming. This perception became more conspicuous in the early 1980s when the United States, Pakistan, Saudi Arabia and many other states joined hands to build an Islamic-Afghan resistance to the Soviet military presence in Afghanistan.

Since then, US policies towards Pakistan have had greater implications for Pakistan’s domestic context. There were Pakistani winners and losers from the American economic and military assistance and secret funding in the 1980s. In addition to General Zia-ul Haq’s military government, the major winners were Islamic groups and parties. The ISI and the CIA used American funds, material and weapons to strengthen Islamic orthodoxy and militancy to expel the Soviets from Afghanistan. Even when the US left the region in 1990, Pakistan’s military continued to rely on orthodoxy and militancy to pursue its agenda in Afghanistan and it launched a new jihadi project in Indian-administered Kashmir.

The US’ Pakistan policies helped improve the political clout of the extreme right-orthodox religious elements, especially those advocating or pursuing jihad as an instrument of foreign policy and security agenda. This created a symbiotic relationship between Islamic militancy-jihad and the Pakistani state.

The reinvigoration of Pakistan-US relations after 9/11 had similar far reaching implications for Pakistan’s domestic politics.

Islamic parties and militant groups have been the major losers of the current Pakistan-US relations. Their privileged interaction with the Pakistani state suffered initially when the government and the military downgraded their relationship with Islamic and militant groups rather than severing it. However, the drift between the two increased over the years and by 2007, the Taliban and their associates openly turned against their one-time patron — the Pakistani state.

Pakistan’s decision in April 2009 to launch the Swat/Malakand military operation drew the battle lines. In addition to the Taliban and their associates, most Islamists and militants are opposed to Pakistan’s counter-terrorism policies which are described as an appendage to American policies.

The on-going debate in Pakistan on Pakistan-US relations is influenced more by domestic power politics rather than the realities of global politics and the options available to Pakistan against the backdrop of its troubled economy. Pakistani critics have chosen neither to pay any attention to the dynamics of global politics nor take into account the imperatives of promoting internal political cohesion in Pakistan and revitalising its economy.

The current domestic debate, at times emotionally charged, focuses on a number of issues including the physical and personnel expansion of the US embassy in Islamabad, renting of about two hundred houses in Islamabad by the American embassy, and the provisions of the “Enhanced Partnership with Pakistan Act 2009” (The Kerry-Lugar Act).

There are several unsubstantiated issues that are being raised by those opposed to reinvigorated Pakistan-US relations. These include allegations of the presence of an American security agency, Blackwater, and the arrival of several hundred marines, some of whom are engaged in military-like activities in the vicinity of Islamabad. These people also claim that a good number of American personnel enter Pakistan without visas and without the knowledge of the Pakistani government.

Islamic parties and militant groups are pursuing a massive propaganda campaign against the above issues. Their discourse, unsubstantiated by facts, reflects their self-created perceptions influenced by a narrow religious disposition. Most of them rely heavily on a host of conspiracy theories to explain how the US wants to destabilise and undermine Pakistan.

The Jama’at-e Islami, known as pro-West until 1990, spearheads the anti-US campaign and publicises the threat of the US taking over Islamabad or dismantling the nuclear programme by using a private security agencies and American marines that have been sneaked into Pakistan. Such disposition of Islamic and militant groups is not merely ideological but also reflects their fury on the loss of political clout in Pakistan’s domestic context due to Pakistan’s participation in the US-led global efforts to contain militancy, especially the recent military operations in Malakand/Swat and the tribal areas.

Some opposition is coming from the PMLN and others with strong rightist-nationalist orientations. The PMLN is pursuing a two-track policy. The top-most leaders like Nawaz Sharif and Shahbaz Sharif do not publicly criticise current American counter-terrorism policies and support Pakistani security operations in Malakand and the tribal areas. However, the PMLN’s second line of leadership minces no words about Pakistan’s security operations, Pakistan-US relations and especially the Enhanced Partnership Act, which is being described as an insult to Pakistan. Their views overlap with those of the Jama’at-e Islami.

The current attack on the Enhanced Partnership Act is also part of the opposition effort to somehow knock out the PPP-led federal government, which is already facing a credibility crisis due to poor governance. If that is not possible, they want at least President Asif Ali Zardari forced out of office. The current controversies on Pakistan-US relations provide the opposition with a good opportunity to build additional pressure on the government.

The US government has to share the blame for the current anti-US campaign in Pakistan. Some American statements provide ample ammunition to the opposition in Pakistan. The occasional talk of drone attacks in Balochistan to wipe out the ‘Quetta shura’ of the Taliban gets a negative response even from those who actively support counter-terrorism.

The wording in the Enhanced Partnership Act regarding monitoring could have been done more carefully to take into account sensitivities in Pakistan’s political domain. For example, nuclear proliferation has been mentioned three times and the stipulation in section 203 (c)(1) “...to dismantle supplier networks relating to the acquisition of nuclear weapons-related materials, such as providing relevant information from or direct access to Pakistani nationals associated with such networks” can easily cause controversy if not read carefully.

The provision in section 302 (a) (15) regarding “...military budgets, the chain of command, the process of promotion for senior military leaders, civilian involvement in strategic guidance and planning, and military involvement in civil administration” has caused alarm in political circles. Though the Act talks of monitoring only, this is being interpreted in Pakistan as a cover for interference, making it obligatory for Pakistan to seek US approval on these matters.

The government of Pakistan has allowed confusion to persist on the issues being raised by the political circles and the media. Its explanations are often vague and do not fully respond to the questions being raised.

The Pakistani government is not prepared to admit publicly that its precarious economic situation restricts its foreign policy options and increases its dependence on international financial institutions and the US. The government is unable to defend the new US assistance as an opportunity to revive the economy or to counter the criticism by Islamist and rightist-nationalist circles. (Daily Times)

Dr Hasan-Askari Rizvi is a political and defence analyst.



Read more...

Monday, 7 September 2009

Services of General Zia-ul-Haq for Pakistan

A critical analysis by Wusatullah Khan

خدماتِ ضیا الحق !

ضیاالحق

ضیا دور میں منطق کے شعبے میں بھی عظیم الشان کام ہوئے

بہت لوگ کہتے ہیں کہ ضیا الحق کا دور گھٹن اور سختی کا زمانہ تھا۔لیکن اس گھٹن اور سختی کے سبب سیاسی ، عمرانی اور نفسیاتی سطح پر کیا کچھ ایکسپوز ہوا۔اس جانب دھیان کیوں نہیں جاتا۔

مثلاً اگر ضیا الحق کا دور نہ ہوتا تو یہ کیسے پتہ چلتا کہ کس طرح ایک فردِ واحد نظریے سے لے کر ثقافت و روایات اور افراد تک ہر شے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی عظیم الشان صلاحیت رکھتا ہے۔

اگر یہ دور نہ آتا تو ہمیں کیسے معلوم ہوتا کہ کس طرح پارلیمانی جمہوریت کو دھاندلی سے پاک کرنے کا نعرہ لگانے والی کچھ سیاسی جماعتیں ڈکٹیٹر کی لچھے داری میں الجھ کر اپنی بچی کھچی نظریاتی عصمت بھی لٹوا سکتی ہیں۔

اور کس انداز سے ایک دو نمبر متوازی نظامِ سیاست و عدالت تخلیق کرکے آئین کے پاؤں میں گھنگرو باندھے جاتے ہیں۔اور کس طرح عورتوں اور اقلیتوں کو جعلی نظامِ پارلیمان کی پیداوار روبوٹس کے زریعے بنیادی حقوق سے بھی قانونی طور پر محروم کیا جاسکتا ہے۔

کس ترکیب سے سماج کو بنیاد پرستی اور ہیروئن کی لت لگوا کر ہاتھ میں کلاشنکوف تھمائی جاتی ہے۔

اگر ضیا الحق کا دور نہ آتا تو یہ کیسے معلوم ہوتا کہ کونسے اہلِ قلم فراز کے اس شعر کے اہل ہیں کہ

بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا

گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے تھے

یہ کیسے معلوم ہوتا کہ جن لوگوں کو علما و مشائخ کی ٹوپی پہنائی جا رہی ہے ان میں سے کتنے مردانِ درویش ہیں اور کتنے فرقہ دسترخوانیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

خود صحافت و صحافیوں کی تربیت جس طرح سے ضیا الحق دور میں ہوئی کیا کسی اور زمانے میں ممکن تھی ؟؟؟

اسیر جراتِ پرواز آزمانے لگے

وہ تازیانے لگے، ہوش سب ٹھکانے لگے

اور سب سے بڑھ کر سنسر شپ کا سنہری تجربہ !! عالم یہ تھا کہ محکمہ اطلاعات کا غریب افسر

صادق از بنگال، جعفر از دکن

ننگِ ملت، ننگِ دیں، ننگِ وطن

انیس سو چوراسی میں ناجائز صدارت کو جائز کرنے کے لیے ریفرنڈم میں یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ نفاذِ شریعت چاہتے ہیں ۔اگر ہاں تو پھر جنرل محمد ضیاء الحق اگلے پانچ برس کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ہیں۔

جیسے مشہور شعر میں سے دوسرا مصرعہ یہ کہہ کر اخباری کاپی سے اکھاڑ دیتا تھا کہ اس سے فحاشی کی بو آتی ہے۔حتی کہ صحافی ’برہنہ ذہنیت‘ یا ’ ننگے پاؤں‘ لکھتے ہوئے بھی کئی بار سوچتا تھا۔

وزیرِ اطلاعات محمود اعظم فاروقی ، راجہ ظفرالحق اور سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب کے ہوتے ہوئے کس مائی کے لال میں جرات تھی کہ قائدِ اعظم کی گیارہ اگست والی تقریر اور علامہ اقبال کے

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا

کہاں سے آئے صدا لاالہ الا اللہ

جیسے غیر شرعی اشعار شائع کرسکے۔

محکمہ اطلاعات نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا کہ کسی طرح محمد علی جناح کے افکار کو ٹخنوں سے اونچی شلوار بندھوادے اور محمد اقبال کو سرسیّد کی تصویر سے بدل دے۔

ایک صحافی کے بقول یہ تک پریس ایڈوائس آئی کہ اعوزباللہ من الشیطان الرجیم کے برابر میں ضیاء رجیم نہ چھاپا جائے۔

ضیا دور میں منطق کے شعبے میں بھی عظیم الشان کام ہوئے۔ انیس سو چوراسی میں ناجائز صدارت کو جائز کرنے کے لیے ریفرنڈم میں یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ نفاذِ شریعت چاہتے ہیں ۔اگر ہاں تو پھر جنرل محمد ضیاء الحق اگلے پانچ برس کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ہیں۔

اس پر معروف فلاسفر سیّد محمد تقی نے تبصرہ کیا کہ صاحب منطقی اعتبار سے ریفرنڈم والا سوال ایسا ہی ہے جیسے میں آپ سے پوچھوں کہ کیا آپ بینگن کو سبزی مانتے ہیں۔اگر ہاں تو پھر آم بھی آج سے سبزی ہے۔

اور تو اور شعبہ آبکاری بھی ضیائی اثرات سے نہ بچ سکا۔خیرپور کے ایک گوٹھ میں تکیے پر بھنگ گھوٹنے والے اللہ ڈینو ملنگ نے مجھ سے کہا۔آؤ تمہیں مارشل لائی بوٹی پلواؤں۔میں نے پوچھا یہ مارشل لائی بوٹی کیا بلا ہے۔کہنے لگا سائیں زبردست پتہ ہے۔ایک دفعہ میرے ہاتھ سے پی کر دیکھو۔لگے گا جیسے ٹکٹکی پر بندھ گئے ہو۔۔۔۔

ہائے کیا وقت تھا جو بیت گیا

اب جو سوچوں تو آنکھ بھر آوے


Read more...

Sunday, 2 August 2009

Sipah-e-Sahaba (the Deobandi-Wahhabi alliance) burns 8 Christians alive in Gojra. Shame on you Shahbaz Sharif.


8 Christians burnt alive in Gojra riots

* Rangers called in after mob torches Christian homes
* Punjab law minister says preliminary investigation shows no desecration of holy Quran

By Ali Usman


LAHORE: The government deployed the Rangers to the town of Gojra on Saturday after at least seven (eight according to BBC Urdu.com) Christians, including three women, were burnt alive and dozens injured following the second incident of violence against Christians in Punjab in one month.

The latest riots, which started almost a week ago following allegations that a copy of the holy Quran was defiled, escalated on Saturday as locals shouting slogans against Christians took to the streets in Christian Town, a Christian-only locality. Following the escalation, Interior Minister Rehman Malik, on directions of President Asif Ali Zardari, ordered the Punjab Rangers to reach Gojra and help the civil administration maintain law and order. Eyewitnesses said a protesting mob turned violent when armed men from Jhang reached the spot and started attacking Christian houses. Locals claimed the attackers were members of a banned organisation, adding they carried sophisticated weaponry. Emboldened by the attackers, the mob started throwing acid and petrol bombs on the houses, forcing the people to come out. A local resident said dozens were feared dead, adding the exact number could not be confirmed as several bodies were buried under debris.

Claiming the banned Sipah-e-Sahaba group was involved in the rioting, Federal Minorities Minister Shahbaz Bhatti told the Associated Press he had directed police to ensure protection for the Christian community but they had ignored his instructions.

Punjab Law Minister Rana Sanaullah said authorities had investigated the allegation of a Holy Quran being defiled “and our initial reports say that there has not been any incident of desecration”. He said the situation had calmed down on Friday, but extremists had entered the city on Saturday and pushed people toward armed clashes. Faisalabad Commissioner Tahir Hussain told local TV channels that representatives of the two communities would meet on Saturday in an effort to calm the situation.

http://dailytimes.com.pk/default.asp?page=2009\08\02\story_2-8-2009_pg1_1


گوجرہ: مسلم عیسائی جھگڑے میں آٹھ ہلاک

مسیحی احتجاج

عیسائی آبادی والے اضلاع میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے: صوبائی وزیر

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرہ کے ایک گاؤں میں اطلاعات کے مطابق مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے عیسائیوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔حکام کے مطابق شہر میں رینجرز کو طلب کر لیا گیا ہے۔

کلِکگوجرہ میں مسلم عیسائی جھگڑا

ہلاک ہونے والے افراد کے جنازے اتوار کو ہوں گے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مقامی ڈی ایس پی کو معطل کر دیا گیا ہے اور اس واقعے کے سلسلے میں چار لوگ گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزید افراد کی گرفتاری کے لیے بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گوجرہ میں ہونے والے حملے چالیس گھر جلا دیے گئے ہیں۔انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں وہ عناصر شامل ہیں جو مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی نشاندہی کرنا قبل از وقت ہے۔ ’یہ وہ لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ امن ہو‘۔

صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے متراثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ وہ اس واقعہ کی وجوہات معلومات کرنا چاہتے تھے اور یہ جاننا چاہتے تھے کہ اسے کیسے روکا جا سکتا تھا اور کیا انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ انہوں متاثرین، عام لوگوں اور انتظامیہ کا جن میں پولیس کے اعلیٰ حکام شامل ہیں موقف سنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پہلے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا اور زیادہ تشویش محسوس نہیں کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور مقامی ڈی ایس پی کو معطل کر دیا گیا اور واقعے کے ذمہ دار افراد میں سے چار کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہ جو لوگ اس واقعے کے ذمہ دار ہیں ان کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کے بارے میں کسی کو ابہام نہیں ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ اتوار کو ہلاک ہونے والے آٹھ افراد کے جنازے ہوں گے اور ان سے فارغ ہو کر انتظامیہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے ’کریک ڈاؤن‘ کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ مقامی واقعے کے لیے مقامی انتظامیہ کی نااہلی ہو سکتی ہے لیکن بدنیتی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں نا اہلی ہوئی ہے اس کی سزا دی جائے گی۔

مزید عیسائی مسلم فسادات کے خدشات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کو خارج از امکان تو قرار نہیں دیا جا سکتا اور ان تمام اضلاع میں جہاں عیسائی آبادی موجود ہے انتظامیہ کو سکیورٹی کے مکمل انتظامات کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیع پیمانے پر اس طرح کے واقعات کا خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی پہلے کبھی ہوا ہے بس اکا دکا واقعات ہو جاتے ہیں

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090801_gojra_update.shtml

گوجرہگوجرہ
گوجرہ

Fear and shame of Gojra

After a week of simmering Muslim-Christian dispute over the alleged desecration of the Holy Quran in tehsil Gojra in Toba Tek Singh district in Punjab, violence has broken out simply because the local administration ignored orders from Lahore to control the situation. The Punjab Chief Minister, Shahbaz Sharif, has suspended the persons responsible for letting this very familiar type of incident get out of hand. Seven Christians have been burnt alive and their houses torched. There may be more casualties.

As usual a “banned organisation” — Federal Minorities Minister Shahbaz Bhatti says it was Sipah Sahaba — came in from outside the town and took over and used acid and petrol bombs to destroy property and kill Christian women and children, while the local government and police simply did nothing. The federal government has taken serious note by sending in the Rangers and the Punjab government has ordered an inquiry into what really transpired. Compensation for the destroyed property has already been announced.

There is a pattern of violence against Christians in Punjab that cannot be ignored. First of all, let us ask why it happens mainly in Punjab? Some facts are illustrative. The Christians of Pakistan are the largest religious minority in Pakistan. The total number of Christians in Pakistan was at least 2 million in 2008, or 1.1 percent of the population. An examination of birth records yields a total number of Christians at 2.8 million. More than 90 percent of the country’s Christians reside in Punjab, making them the largest religious minority in the province. And 60 percent of them live in the villages, and in most cases are more indigenous to their areas than the Muslims.

Charges of blasphemy and desecration of the Quran are “used” against them, but the latter is used against them collectively, followed by organised dispossession and destruction of property. In 1997, the twin villages of Shantinagar-Tibba Colony 12 kilometres east of Khanewal, Multan Division, were looted and burnt by 20,000 Muslim citizens and 500 policemen acting together after an incident of alleged desecration of the Quran was reported. The police first evacuated the Christian population of 15,000, then helped the raiders use battle-field explosives to blow up their houses and property. Sipah Sahaba was also blamed by the Christians for that holocaust.

In 2005, the Christian community of Sangla Hill in Nankana district in Punjab experienced a most hair-raising day of violence and vandalism. After allegations of desecration of the Quran, a mob of 3,000 led by the local elected politician and police burnt down three churches, a missionary-run school, two hostels and several houses belonging to the Christian community. Lahore’s archbishop stated that the attackers had been brought there by buses from outside. The Punjab government once again acted quickly to compensate for the neglect and complicity of the local administration, but was prevented from proceeding fairly by a renowned Sunni cleric of Lahore who took his own lashkar of youths to “defend” the Muslims in Sangla Hill. Ironically, he has since fallen to a suicide-bomber of the Taliban.

These were big incidents that not only shook Pakistan but the world too. The Archbishop of Canterbury, already expressing sympathy with Pakistan after the earthquake in Azad Kashmir, was forced to say after Sangla that Pakistan was in the process of redefining who could be its citizens. Smaller incidents of persecution of the Christians have never stopped, but Gojra tells us that holocausts can repeat themselves as civic virtue declines in Pakistan under the influence of extremism.

We don’t know whom the laws of blasphemy and desecration were supposed to target, but their intent was to stop the crime mentioned in them. Tragically, blasphemy cases have proliferated after the promulgation of the blasphemy law, and action taken against the accused is not by the state but by the vigilantes the state cannot control. Section 295-B Defiling of copy of the holy Quran says: “Whoever wilfully defiles, damages or desecrates a copy of the Holy Quran or an extract therefrom, or uses it in a derogatory manner or any unlawful purpose, shall be punishable with imprisonment for life”. But the punishment has been inflicted without trial on people who had nothing to do with it.

These are signals of doom. And the crime is being committed by the non-state actors that were once considered “assets” of the military-state. Their dominance in Punjab is well established and their control over local population to the detriment of local administration is also well known. The laws mean nothing under these circumstances. * (Daily Times, 3 Aug 2009)

....

Wusatullah Khan's analysis on BBC Urdu.com

جنگل کی راہ !

مسیحی احتجاج

گوجرہ میں مشتعل مسلمان ہجوم نے عیسائیوں کے درجنوں گھر نذرِ آتش کردیے

یہ بات ہے سترہ جنوری انیس سو ستانوے کی۔ پولیس نے شراب کی غیرقانونی فروخت کے الزام میں جنوبی پنجاب کےضلع خانیوال کے گاؤں شانتی نگر میں راج مسیح کے گھر چھاپہ مارا۔لیکن کوئی بوتل برآمد نہ ہوسکی مگر تلاشی کے دوران انجیل کو اٹھا کر پھینک دیا گیا اور راج مسیح کو تھانے میں بند کردیا گیا۔ مقامی عیسائی آبادی نے انجیل کی بے حرمتی کے خلاف جلوس نکالا۔جس کا نوٹس لیتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے کچھ پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی سے معطل کردیا۔مگر پولیس والوں نے دھمکی دی کہ اگر الزامات واپس نہ لئے گئے تو عیسائیوں کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

تین ہفتے بعد پانچ فروری کو شانتی نگر کی ایک مقامی مسجد سے اعلان ہوا کہ عیسائیوں نے قران کے دو یا تین صفحات جلا دیے ہیں اور یہ صفحات مسجد کے باہر پائے گئے ہیں۔ خبر پھیلتے ہی اردگرد کے چودہ دیہاتوں سے تقریباً بیس ہزار افراد نے عیسائیوں کے دو دیہات شانتی نگر اور ٹوبہ کی جانب مارچ شروع کردیا۔ خانیوال شہر اور دونوں عیسائی دیہاتوں میں پندرہ سو گھراور دوکانیں، بارہ چرچ ، ایک ہاسٹل اور ڈسپنسری تباہ کردی گئی۔ درجن بھر خواتین کی بے حرمتی ہوئی۔اخبار فرائیڈے ٹائمز کے مطابق پولیس نے پہلے پندرہ ہزار عیسائی آبادی کو علاقہ چھوڑ کر محفوظ مقامات پر جانے کو کہا اس کے بعد بلوائیوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ انسانی حقوق کمیشن نے کہا انیس سو سینتالیس کے بعد سے پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا بدترین واقعہ تھا۔

آئیے آگے بڑھیں۔

عیسائی پاکستان کی آبادی کا ڈیڑھ فیصد ہیں۔جب سے پاکستان میں مقدس کتابوں اور انبیاء کی بے حرمتی پر سزائے موت کا قانون لاگو ہے، تقریباً ایک ہزار افراد اس کی زد میں آ چکے ہیں اور ان میں سے نوے فیصد سے زائد ملزم عیسائی ہیں۔ زیادہ تر الزامات کے پیچھے لڑکی، ذاتی و سیاسی رنجش، جائیداد کا جھگڑا یا مذہبی نفرت کا اظہار بتایا جاتا ہے مگر بے حرمتی کا معاملہ اتنا حساس ہے کہ صرف الزام ہی کافی ہے۔ عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی مجمع ملزموں سے انفرادی اور اجتماعی انصاف کرچکا ہوتا ہے۔اور ایسے اکثر واقعات میں پولیس موقع واردات پر پہنچنے والا آخری ادارہ ہوتا ہے۔

یہ بات نومبر دو ہزار پانچ کی ہے۔ فیصل آباد کے نواحی قصبے سانگلہ ہل میں جہاں نوے فیصد مسلمان اور دس فیصد عیسائی رہتے ہیں، یوسف مسیح نامی شخص نے دو مسلمانوں سے تاش کے جوئے میں بھاری رقم جیت لی۔ اگلے روز ان میں سے ایک ہارا ہوا جواری ایک مقامی جلد ساز کے پاس قرآن کا خستہ حال نسخہ لے کر پہنچا اور کہا کہ یوسف مسیح نے اس کی بے حرمتی کی ہے۔ مقامی مسجد سے اعلان ہوا کہ یوسف مسیح نامی ایک شخص نے قرآن کے صفحات جلائے ہیں۔ یہ سنتے ہی تقریباً ڈیڑھ ہزار افراد جمع ہوگئے۔ ایک درجن گھر، پانچ گرجے، تین سکول، ایک کانونٹ اور ایک ڈسپنسری تباہ ہوگئی۔ تین ماہ بعد لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے یوسف مسیح کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بری کردیا۔ ساتھ ہی عیسائی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں پکڑے گئے اٹھاسی افراد بھی ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بری ہوگئے۔

عیسائی پاکستان کی آبادی کا ڈیڑھ فیصد ہیں۔جب سے پاکستان میں مقدس کتابوں اور انبیاء کی بے حرمتی پر سزائے موت کا قانون لاگو ہے، تقریباً ایک ہزار افراد اس کی زد میں آ چکے ہیں اور ان میں سے نوے فیصد سے زائد ملزم عیسائی ہیں۔ زیادہ تر الزامات کے پیچھے لڑکی، ذاتی و سیاسی رنجش، جائیداد کا جھگڑا یا مذہبی نفرت کا اظہار بتایا جاتا ہے مگر بے حرمتی کا معاملہ اتنا حساس ہے کہ صرف الزام ہی کافی ہے۔ عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی مجمع ملزموں سے انفرادی اور اجتماعی انصاف کرچکا ہوتا ہے۔اور ایسے اکثر واقعات میں پولیس موقع واردات پر پہنچنے والا آخری ادارہ ہوتا ہے۔

اس پورے ڈرامے میں ایک عنصر یہ شامل ہوا ہے کہ پہلے جو مجمع صرف ملزم کا تعاقب کرتا تھا اب وہ ملزم کی برادری کا بھی اسی جوش و جذبے سے تعاقب کرتا ہے۔فیصل آباد کے قریب گوجرہ میں ہونے والے واقعات اس رجحان کا تازہ ثبوت ہیں۔

بہت ہی کم مقدمات میں جرم ثابت ہوسکا لیکن جھوٹا الزام لگانے والے کسی ایک مدعی کو بھی قرار واقعی سزا نہیں مل سکی۔اس کے برعکس بے گناہی ثابت ہونے کے باوجود عموماً ملزم کو ہی علاقہ یا ملک چھوڑنا پڑا۔یا بے حرمتی کے قوانین کے تحت نظربند متعدد ملزموں کو عدالت کے احاطے یا جیل میں ہی پولیس کی موجودگی میں قتل ہونا پڑا۔

اس پورے ڈرامے میں ایک عنصر یہ شامل ہوا ہے کہ پہلے جو مجمع صرف ملزم کا تعاقب کرتا تھا اب وہ ملزم کی برادری کا بھی اسی جوش و جذبے سے تعاقب کرتا ہے۔فیصل آباد کے قریب گوجرہ میں ہونے والے واقعات اس رجحان کا تازہ ثبوت ہیں۔

اس تناظر میں جب میڈیا فلسطین میں اہلِ یہود کے ہاتھوں مسلمانوں سےہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ جب مقامی دانشور بوسنیا میں سرب عیسائیوں کی جانب سے مسلمانوں کی نسل کشی کا رقت آمیزحوالہ دیتا ہے۔جب وزارتِ خارجہ بھارتی ریاست گجرات میں ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں دو ہزار مسلمانوں کی ہلاکت یاد دلاتی ہے اور جب امام صاحب پوری دنیا میں مسلمانوں سے زیادتی کرنے والوں کے خلاف نگاہیں آسمان کی جانب اٹھا کر خدائی مدد مانگتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ گریبان پھاڑ کر قہقہے لگاتے ہوئے جنگل کی راہ لی جائے۔

Haroon-ur-Rashid's Analysis on the Gojra Massacre
Jang, 4 August 2009

...
Outlawed terrorists in Gojra


As the government moved on Sunday to register cases against 800 people involved in killing 7 Christians in Gojra, sources in Gojra have revealed that the killers came from outside the city, from Jhang, the hometown of Sipah Sahaba. According to them, the government had received information that “a group of armed men with masked faces had come from Jhang to lead the violence against Christians on the pretext of desecration of the Holy Quran”.

The outsiders first made provocative speeches to arouse the Muslim community against the local Christian community before setting fire to the houses of the Christians while they were still inside. Improvised bombs of the sort stocked by jihadi organisations were used and one was actually shown in a photograph printed by a national daily. The mischief was started by a “maulvi” who arrived in the targeted Gojra village six months ago. There is no “external hand” here, as announced by an official in Lahore.

Christians and Muslims of the village are mostly brick-kiln workers living peacefully, but for the three mosques in the village where the outsiders set up their group. Maulvi Imran Aslam and his two followers first alleged that Christians had torn up the Quran and thrown it up in the air during a wedding. Then, instead of taking the matter to the police, they went on the loudspeakers and asked the Muslims to attack and kill “all the Christians”.

The Gojra case follows on the heels of a similar recent case in Kasur near Lahore. But the Punjab administration, which should have known better, remained sleeping. The Gojra police simply hoped the trouble would blow over with a few Christians hurt and Muslim passions satisfied, but it did not happen. Christians have been killed according to plans made by Al Qaeda and its followers, as witnessed in the churches of Islamabad, Murree and Bahawalpur. The pattern of violence resembles the one witnessed in Shantinagar in 1997 and Sangla Hill in 2005.

The federal and provincial governments must remain steadfast in their resolve to punish the culprits and compensate the dirt-poor Christians of Gojra. Last time, in Shantinagar and Sangla Hill, the help they finally extended to the victims was neither enough nor well organised. (Daily TImes, 4 August 2009)



...
(Tanvir Qaiser Shahdi, Express, 5 Aug 2009)


Read more...

Monday, 13 April 2009

Wusatullah Khan: Nops ! Our Intelligence Agencies are Patriot & Can't be involved in Baloch Nationalist Leaders' Killings !!!!



! نا بابا نا




غلام محمد بلوچ ، شیر محمد بگتی اور لالہ منیر کو بلوچستان میں متحرک طالبان یا القاعدہ نے مارا ہے۔کیونکہ قوم

پرستی کی لہر عام بلوچوں میں امریکہ کے خلاف جذبہ جہاد پیدا کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔یہ کسی محبِ وطن انٹیلیجنس ایجنسی یا ادارے کا کام نہیں ہوسکتا۔
یا پھر ان تینوں قوم پرستوں کو انہی کے حریف بلوچ قوم پرستوں نے مارا ہے ۔یہ کسی محبِ وطن انٹیلیجنس ایجنسی یا ادارے کا کام نہیں ہوسکتا۔
یا پھر یہ تینوں قبائیلی دشمنی کا نشانہ بنے ہیں۔یہ کسی محبِ وطن انٹیلیجنس ایجنسی یا ادارے کا کام نہیں ہوسکتا۔
یا پھر انہیں را نے مارا ہے ۔تاکہ پاکستانی ریاست کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوجائے۔ یہ کسی محبِ وطن انٹیلیجنس ایجنسی یا ادارے کا کام نہیں ہوسکتا۔
یا پھر انہیں ایران نے مروایا ہے تاکہ سرحد پار سے ہونے والی جنداللہ کارروائیوں کا انتقام لیا جاسکے۔ یہ کسی محبِ وطن انٹیلیجنس ایجنسی یا ادارے کا کام نہیں ہوسکتا۔
یا پھر انہیں افغانستان نے مروایا ہے۔جو پاکستان کو کبھی بھی پرامن نہیں دیکھ سکتا۔ یہ کسی محبِ وطن انٹیلیجنس ایجنسی یا ادارے کا کام نہیں ہوسکتا۔
یا پھر یہ جان سولیکی کے اغوا کا بدلہ لینے کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ سی آئی اے نے اس کے لیے جان سولیکی کے رہا ہونے تک انتظار کیا۔ یہ کسی محبِ وطن انٹیلیجنس ایجنسی یا ادارے کا کام نہیں ہوسکتا۔
یا پھر غلام محمد بلوچ ، شیر محمد بگتی اور لالہ منیر نے خود کو کوئٹہ میں کچکول علی ایڈوکیٹ کے دفتر سے اغوا کرنے کا ڈرامہ رچا کر مکران میں خودکشی کرلی۔تاکہ پاکستانی اداروں کو بدنام کیا جا سکے۔ یہ کسی محبِ وطن انٹیلیجنس ایجنسی یا ادارےکا کام نہیں ہوسکتا۔




!بلوچوں کو سمجھاؤ



چلیے مان لیا کہ بلوچستان میں جو بھی بدامنی ہے اس کے پیچھے بھارت کا اسلحہ، تربیت اور پیسہ ہے تا کہ کشمیر کا سکور برابر

کیا جاسکے اور پاکستان کو مشرق اور مغرب سے گھیرا جا سکے۔ اور یہ کہ اس منصوبے کو امریکہ اور بعض امریکہ نواز خلیجی ممالک کی بھی خاموش تائید حاصل ہے۔
اگر یہ بات پچاس فیصد بھی درست ہے تو بھی بڑی خطرناک بات ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کچھ فوری اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
یوں کریں کہ بلوچستان میں پچھلے آٹھ برس میں جتنے بھی زن و مرد غائب ہوئے ہیں انہیں تلاش کر کے کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے تاکہ سولہ کروڑ پاکستانیوں کی یہ دیکھ کر آنکھیں کھل جائیں کہ کیسے کیسے لوگ غیرملکی ایجنٹ بنے ہوئے تھے۔ اس سے ان عناصر کا منہ بھی بند ہوجائے گا جو آنکھ بند کر کے کہہ دیتے ہیں کہ لوگوں کو سرکاری ایجنسیاں غائب کررہی ہیں تاکہ بلوچستان کے وسائل پر قبضے کی مخالف آوازوں کو خاموش کیا جاسکے۔
اس سے پہلے کے غلام محمد بلوچ ، شیرمحمد بلوچ اور لالہ منیر کی لاشوں کو تربت کے ویرانوں میں پھینکنے والے پاکستان دشمن سرحد پار افغانستان یا بھارت فرار ہوجائیں انہیں پکڑنے کے لیے پوری طاقت لگا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے کام کرنے والے غیرملکی ایجنٹ دس بار سوچیں۔

چونکہ بلوچستان کے وزیرِ اعلی اسلم رئیسانی اور وفاقی وزیر میر اسرار اللہ زہری نے بلوچستان میں غیرملکی اشاروں پر امن تباہ کرنے والوں سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے اس لیے انہیں فوری طور پر برطرف کرکے محبِ وطن بلوچستانیوں کے دل جیتے جائیں۔ اسی طرح بلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں اختر مینگل ، حاصل بلوچ اور سپریم کورٹ بار کونسل کے صدر علی احمد کرد پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے کیونکہ ان تینوں نے قوم پرست رہنماؤں کے قتل کا الزام بلاتحقیق سرکاری ایجنسیوں پر عائد کیا ہے۔اور یوں یہ رہنما غیرملکی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ بلوچستان کی نئی نسل کو شرپسندوں کی برین واشنگ سے بچانے کے لیے تعلیمی نصاب اور سرکاری ذرائع ابلاغ کا بھرپور تعمیری استعمال کیا جائے۔ اس نسل پر یہ حقیقت واضح کی جائے کہ بلوچستان جو پاکستان بننے سے پہلے ریاست قلات تھی، اسے زبردستی فیڈریشن میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا گیا تھا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ خان آف قلات نے پاکستان میں شمولیت کے لیے روتے ہوئے گڑگڑا کر یہ کہتے ہوئے درخواست کی تھی کہ حضور اگر قلات پاکستان میں شامل نہیں ہوا تو ہم بلوچ کہیں کے نہیں رہیں گے۔
یہ حقیقت بھی نصاب کا حصہ بنائی جائے کہ ایوب خان نے باغی نواب نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو قران پر وعدہ کرنے کے باوجود پھانسی نہیں دی تھی بلکہ نواب نوروز خان اپنی بغاوت پر اتنے پشیمان تھے کہ انہوں نے مارے غیرت کے خود ہی اپنے گلے میں پھندا ڈال لیا۔

اور یہ بھی کہ وفاقی حکومت نے ماضی کی بے وفائیوں کو معاف کرتے ہوئے جب سن ستر کی دہائی میں بلوچ قوم پرستوں کو صوبے میں حکومت بنانے کا موقع دیا تو انہوں نے سوویت یونین اور بھارت سے مل کر علیحدگی کی سازش شروع کردی۔ لہذٰا بھٹو حکومت کو مجبوراً اس غداری کے خلاف پاکستان کے مفاد میں مسلح ایکشن لینا پڑ گیا اور عطا اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری جیسے عناصر کو سزا دینی پڑی۔
نئی نسل کو اس پروپیگنڈے سے بھی بچایا جائے کہ نواب اکبر بگٹی کو مشرف حکومت نے مارا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مشرف حکومت نواب صاحب کو عزت و احترام سے ڈیرہ بگٹی لانا چاہتی تھی۔لیکن یہ نواب بگٹی تھے جنہوں نے خود پر پہاڑ گرا لیا۔تاکہ وہ مرتے مرتے بھی وفاق کے خلاف بغاوت کا الاؤ روشن کر جائیں۔
اگرچہ بلوچستان کے عوام کی اکثریت ہمیشہ سے مٹھی بھر شرپسندوں کے خلاف رہی ہے۔ لیکن وقت آگیا ہے کہ اب اس سوال پر صوبے میں ریفرینڈم کروایا جائے کہ کیا آپ بلوچستان کے لیے اب تک کیے گئے ترقی و فلاح و بہبود کے اقدامات سے خوش ہیں؟؟؟ امید ہے کہ اس ریفرینڈم کے نتائج سے شرپسندوں کا رہا سہا اخلاقی دیوالیہ بھی نکل جائے گا۔
اس سوال پر بھی تحقیق ہونی چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا کہ مشرقی پاکستان کے ننانوے فیصد وفاق پرست عوام پر ایک فیصد پاکستان دشمن غالب آگئے حالانکہ پاکستان کی ہر حکومت نے مشرقی پاکستان کی ترقی اور فلاح و بہبود میں کبھی غفلت نہیں برتی۔
اس تحقیق کے نتائج کی روشنی میں وفاقی حکومت بلوچستان میں بھارتی اور امریکی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکے گی۔ دیکھیے جلدی سے ان تجاویز پر عمل کرلیجئے کہیں یہ نہ ہو کہ
مہلت تھی جب تو دل کو تھا بے کاریوں سے شغلاب کام یاد آئے تو ، مہلت نہیں رہی

Read more...

Sunday, 22 February 2009

Taliban, Khmer Rouge and the Shining Path - By Wusatullah Khan

An interesting, thought provoking article by Wusatullah Khan, on BBC Urdu dot com, in which he compares the Taliban with Khmer Rouge of Cambodia and the Shining Path movement of Peru.

کہنے کا مقصد یہ ہے۔۔۔





کہنے کا مقصد یہ ہے کہ طالبان کسی مخصوص علاقے میں کسی خاص مذہبی تحریک کا نہیں بلکہ ایک ذہنیت کا نام ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں کبھی بھی کسی نام سے بھی سر اٹھا سکتی ہے۔






Read more...