
’ہمارے دشمن ملک بھارت نے لابی کرنے والوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر خرچ کیے تاکہ پاکستان کے لیے امریکی مدد کا یہ بل منظور نہ ہو لیکن صدر پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے ذریعے ان بھارتی عزائم کو شکست ہوئی‘ قمر زمان کائرہ
وفاقی وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ کیری لوگر بل کے تحت ملنے والے ایک سو بیس ارب ڈالر سالانہ کا بڑا حصہ صوبہ سرحد کی ترقی اور وہاں غربت کے خاتمے کے لیے صرف کیا جائے گا۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں کیری لوگر بل کے بارے میں ایک مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام تاثر کے برعکس حکومت اس بل کے تحت ملنے والی رقم کو بجٹ کی تیاری پر خرچ نہیں کرے گی بلکہ اس رقم کا بڑا حصہ، تقریباً اسی سے ایک سو ارب روپے ہر سال صوبہ سرحد کے شدت پسندی اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں خرچ کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کتنی بڑی رقم ہے اور اس سے اس صوبے میں کتنی بڑی سماجی تبدیلی آ سکتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت صوبہ سرحد کے لیے حکومت زیادہ سے زیادہ دس ارب روپے سال کے خرچ کرتی ہے۔
’جب یہ ترقیاتی رقم آٹھ سے دس گنا بڑھ جائے گی تو آپ خود اندازہ لگائیں کہ وہاں کتنی معاشی اور سماجی ترقی ہو گی اور اس کے نتیجے میں ان علاقوں میں پنپتی شدت پسندی کو ختم کرنے میں بہت مدد ملے گی‘۔
کیری لوگر بل کے ذریعے امریکہ پاکستانی مسلح افواج کے افسران کی ترقی اور اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے عمل کو بھی مانیٹر کر سکے گا۔ یہ ایک غیر ضروری شرط ہے اور اس کا مقصد سول اور فوجی قیادت کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔
مشاہد حسین
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ساری دنیا اب یہ محسوس کرتی ہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کی جڑیں غربت اور بے روز گاری میں ہیں۔ ’ہم اس رقم کو دہشت گردی کی جڑیں کاٹنے میں صرف کریں گے‘۔
سمینار میں شریک حزب اختلاف کی جماعتوں کے نمائندوں کی جانب سے کیری لوگر بل کے ساتھ منسلک شرائط پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ کیری لوگر بل امریکہ میں ہونے والی قانون سازی ہے، پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ معاہدہ نہیں جس پر عمل کرنا پاکستان کے لیے لازمی ہو۔
’ہم امریکی پارلیمنٹ کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے کہ وہ اپنے قانون کیسے بنائے۔ اگر اس میں موجود شرائط ہمیں یا ہماری پارلیمنٹ کو منظور نہیں ہوں گی تو مدد کی اس پیش کش کو مسترد کیا جا سکتا ہے‘۔
قمر زمان کائرہ کے مطابق ان کی حکومت نے سفارتکاری کے ذریعے اس بل میں پرویز مشرف دور حکومت میں شامل کی گئی بعض شرائط نکلوائی ہیں جن میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر تک رسائی کی شرط بھی شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں اب ایک عمومی سی بات کی گئی ہے کہ پاکستان ایٹمی پھیلاؤ کے خاتمے کی کوششوں میں تعاون کرے گا۔
’یہ تعاون تو ہم ہر حال میں کریں گے چاہے مدد ملے یا نہ ملے لیکن ڈاکٹر قدیر تک کسی غیر ملکی کو رسائی دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ بعض ممالک کیری لوگر بل کو منظور ہونے سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے رہے ہیں۔ ’ہمارے دشمن ملک بھارت نے لابی کرنے والوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر خرچ کیے تاکہ پاکستان کے لیے امریکی مدد کا یہ بل منظور نہ ہو لیکن صدر پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے ذریعے ان بھارتی عزائم کو شکست ہوئی‘۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اس بل کے ساتھ منسلک جن شرائط پر اعتراض کیا جا رہا ہے وہ پاکستان کو ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر کی غیر فوجی امداد کے ساتھ نہیں بلکہ اس فوجی امداد کے ساتھ منسلک ہیں جس کا ابھی تعین بھی نہیں ہوا۔
’آپ نے کیسے یہ فرض کر لیا کہ ہم ایسی فوجی امداد کے لیے جو تیس کروڑ ڈالر سے زیادہ نہیں ہو گی ایسی شرائط مان لیں گے جو ملک کے مفاد میں نہ ہوں‘۔کائرہ نے کہا کہ ابھی یہ بل قانون نہیں بنا اور اس میں ابھی تک ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔
کیری لوگر بل میں شامل شرائط کا جائزہ پیش کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل اور خارجہ امور کے لیے سینیٹ کی کمیٹی کے سربراہ مشاہد حسین سید نے کہا کہ اس بل میں بعض ایسی شرائط ہیں جو امریکہ میں بھارتی لابی نے شامل کروائی ہیں جن سے پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
’ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک اور ان کے اداروں کے تعاون سے علاقے میں دہشت گردی اور اس کے اڈے ختم کرنے کے لیے کام کرے گا‘۔
مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ اس شق کی بنیاد پر بھارتی خفیہ ادارہ را پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے بتایا امریکہ پاکستانی مسلح افواج کے افسران کی ترقی اور اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے عمل کو بھی مانیٹر کر سکے گا۔ مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر ضروری شرط ہے اور اس کا مقصد سول اور فوجی قیادت کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔
آپ نے کیسے یہ فرض کر لیا کہ ہم ایسی فوجی امداد کے لیے جو تیس کروڑ ڈالر سے زیادہ نہیں ہو گی ایسی شرائط مان لیں گے جو ملک کے مفاد میں نہ ہوں
قمر زمان کائرہ
امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر طارق فاطمی نے کہا کہ کیری لوگر بل کے ذریعے پاکستان کو اب بھارت میں بھی امن قائم کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے کیونکہ اگر وہاں بھی کوئی دہشت گردی کی واردات ہوئی تو اس کا جواب پاکستان کو دینا ہو گا۔
طارق فاطمی نے کہا کہ اس بل میں شامل بعض شرائط نا قابل عمل ہیں اور بعض ایسی ہیں جو پاکستانی عوام میں امریکہ کے خلاف جذبات ابھارنے کا باعث بنیں گی۔ طارق فاطمی کے بقول کیری لوگر بل پاکستان کے خلاف فرد جرم ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی اور معروف لکھاری ایاز امیر نے کہا کہ اس مسئلے پر ان کے اپنے جذبات بہت زیادہ ہیں اس لیے وہ پارٹی کی ترجمانی نہیں کریں گے بلکہ اپنے ذاتی خیالات بیان کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کیری لوگر بل میں شامل شرائط پر بحث اس وجہ سے لاحاصل ہے کیونکہ پاکستانی حکومت اور قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ غیرت اور حمیت سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں یا بھیک مانگنے والوں کی طرح۔
ایاز امیر نے کہا کہ اگر پاکستانی قوم غیرت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو انہیں بنیاد پرستی اور عیش پرستی کو خیرباد کہ کر اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلانا سیکھنا ہو گا اور ایسا کرنے میں نہ کیری لوگر بل کی ضرورت ہے اور نہ وہ اس کے آڑے آتا ہے